تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 62

پھر دوسری آگ خدا تعالیٰ نے اُن کے لئے اس طرح بھڑکائی کہ وہ اُن کے بڑے بڑے لیڈروں کو اپنی قدرت کے زبر دست ہاتھ سے اُن کے گھروں سے نکال کر بدر کے میدان میںلایا اور انہیں گنتی کے چند ناتجربہ کا ر اور غیر مسلح مسلمانوں کے ہاتھوں سے اس طرح مروایا کہ مکہ کے گھر گھر میں صف ِ ماتم بچھ گئی اور اُن کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ابو جہل اُن کا بڑا مشہور جرنیل تھا مگر بدر کے میدان میں دو نو عمر انصاری لڑکو ں نے اُس پر ایسا تاک کر حملہ کیا کہ وہ زخموں سے نڈھال ہو کر گِر گیا اور کفار ایسے سراسیمہ ہوئے کہ وہ اپنے اس مشہور جرنیل کو خاک و خون میں تڑپتا چھوڑ کر مکہ کو بھاگ کھڑے ہوئے۔حضرت عبدا للہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد میں نے دیکھا کہ ابو جہل ایک جگہ زخموں کی شدت کی وجہ سے کراہ رہا ہے۔میں اُس کے پاس گیا اور میں نے کہا سنائو کیا حال ہے ؟ اُس نے کہا مجھے اپنی موت کا کوئی غم نہیں۔سپاہی آخر مرا ہی کرتے ہیں۔مجھے تو یہ غم ہے کہ مدینہ کے دو انصاری لڑکوں کے ہاتھوں سے میں مارا گیا اب تم صرف اتنا احسان کرو کہ تلوار سے میری گردن کاٹ دو تاکہ میری یہ تکلیف ختم ہو جائے۔مگر دیکھنا میری گردن ذرا لمبی کاٹنا کیونکہ جرنیلوں کی گردن ہمیشہ لمبی کاٹی جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا میں تیری اس آخری حسرت کو بھی کبھی پورا نہیں ہونے دوںگا اور ٹھوڑی کے قریب سے تیری گردن کاٹوں گا۔چنانچہ انہوں نے ٹھوڑی کے قریب تلوار رکھ کر اُس کا سر تن سے جُدا کر دیا (السیرۃ الحلبیۃ باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم باب غزوۃ بدر الکبریٰ)۔اب دیکھو یہ کتنی بڑی آگ تھی جو ابوجہل کو جلا کر راکھ کر رہی تھی کہ وہ مدینہ کے دو ناتجربہ کار اور نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں مارا گیا۔اور پھر مرتے وقت اُس نے جو آخری خواہش کی تھی وہ بھی پوری نہ ہوئی۔اور ٹھوڑی کے پاس سے اُس کی گردن کاٹی گئی۔پھر اس آگ نے صرف ابوجہل کو ہی خاکستر نہیں کیا بلکہ اُس کے شعلے مکہ کے گھر گھر پہنچے اور انہوں نے ہر کافر اوربت پرست کو اس آگ کا شکار بنا دیا۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ شکست کھانے کے بعد مکہ والوں کی ایسی دردناک کیفیت ہو گئی کہ انہوں نے سمجھا کہ اگر آج ماتم کیا گیا تو مکہ کی تمام عزت خاک میں مل جائےگی پس عرب کے اُن لیڈروں نے جو زندہ تھے آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ کوئی شخص بدر کے مقتولین کا ماتم نہ کرے اور اگر کوئی شخص ماتم کرے تو اسے قوم میں سے نکال دیا جائے اُس کا بائیکاٹ کیا جائے اور اُس پر جرمانہ کیا جائے۔عرب ایک قبائلی قوم تھی اور جو قبائلی قومیں ہوتی ہیں اُن میں قومی روح انتہا درجہ کی شدید ہوتی ہے۔پس اس حکم کی خلاف ورزی اُن کے لئے ناممکن تھی۔مائیں اپنے کلیجوں پر سل رکھ کر۔باپ اپنے دلوں کو مسوس کر اور بچے اپنی