تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 598

کریں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ آپؐ نے اس آیت کے معنے منفرداًلئے ہیں۔سیاق و سباق کو نہیں لیا۔آپ نے جس مضمون میں اس آیت کو بیان فرمایا ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مرسل اچھے اورشریف خاندانوں میں سے آتے ہیں اور ان کی قوم ایسی اعلیٰ ہوتی ہے کہ کوئی شخص اس سے کراہت نہیں کرسکتا۔کیونکہ اگروہ ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں جس کو اس شہر یا علاقہ یاملک کے لوگ ذلیل اورحقیر سمجھتے ہوں توان کا مانناطبائع پر گراں گذرتاہے اوریہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت اورحکمت کے خلاف ہے کہ وہ حقیر قوموں میں سے نبیوں کو مبعوث کرکے لوگوںکو تکلیف مالایطاق میں ڈال دے۔پس چونکہ ایسے خاندان سے کسی نبی یا رسول کامبعوث ہونا جو رذیل سمجھاجاتاہو طبائع کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوتا ہے اوراس میں مشکلات پیش آتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے نبیوں اورماموروں کو شریف اور وجیہہ خاندانوں میں سے مبعوث کرتاچلاآیاہے تاکہ لوگوں کے قلوب میں ان کے خلا ف نفرت اورحقارت کے جذبات پیدانہ ہو ں۔پس آپ نے اس آیت کے جو معنے لئے ہیں وہ منفردًالئے ہیں سیاق وسباق کے لحاظ سے نہیں لئے۔آپ نے ان معنوں کو اس رنگ میں لیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آباواجداد سوسائٹی کے ساجد تھے سوسائٹی سے بغاوت نہ کرتے تھے بلکہ اچھے شہری تھے اوروہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جن کو قوم حقیر،نافرمان یا غدارسمجھتی تھی۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم توفرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہرنبی ہی ایساہوتاہے۔اس طرح یہ معنے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں نہیں ہوں گے بلکہ سب نبیوں پر ہوجائیں گے۔ان معنوں کے لحاظ سے یہاں ساجد کے معنے خدا تعالیٰ کو سجدہ کرنے والے کے نہیں ہوسکتے۔کیونکہ یہ تو مسلمہ امر ہے کہ بعض انبیاء کے آباء و اجداد ساجداً للہ نہ تھے۔اس لئے لازماً اس کے یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ سوسائٹی کے ساجد اورسوسائٹی کے قوانین سے بغاوت نہ کرنے والے۔ہرسوسائٹی کے اند ر شرافت کا ایک خاص معیار ہوتاہے۔مثلاً شراب پینا ایک فعل ہے۔اب فرض کرو ایک مسلمان بھی شراب پیتاہے اورایک انگریز بھی شراب پیتاہے۔توجب مسلمان شراب پئے گا تو اسے اس کی سوسائٹی غیر شریف قراردے گی اورجب انگریز شراب پئے گا اسے اس کی سوسائٹی شریف کہے گی۔غرض فعل ایک ہی ہے مگر جب اسے دوالگ الگ سوسائٹیوں کے معیار وں پر رکھاجائے گاتو ایک سوسائٹی کے معیار کے مطابق وہ فعل گناہ بن جائے گااوراس کامرتکب سخت گناہگار قرار پائے گا اوردوسری سوسائٹی کے معیار کے مطابق وہ فعل عین شرافت سمجھاجائے گا اوراس کامرتکب سوسائٹی کا فرمانبردار قرارپائے گا۔پس شرافت کامعیار ہرسوسائٹی کے اپنے اپنے قوانین کے مطابق ہوتاہے۔اس میں کوئی شبہ نہیںکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد عرب کی سوسائٹی کے مطابق شریف تھے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ معیارِ اسلام کے مطابق ان میں نیکیاں نہیں پائی