تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 562
ہے تو اس وقت آپؐ کی زبا ن پر جو الفاظ جاری ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اَللَّھُمَّ الرَّ فِیْقَ الْاَ عْلٰی اَللَّھُمَّ الرَّ فِیْقَ الْاَعْلٰی (بخاری کتاب المغازی باب اخر ما تکلم بہ صلی اللہ علیہ وسلم )بے شک آپؐ نے یہاں رفیق کا لفظ استعمال فرمایا ہے مگر اَلْاَعْلٰی کا لفظ ربّ العٰلمین کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے۔گویا رفیق کہہ کر آپ نے اپنے تعلق بِاللہ کی طرف اشارہ کیا۔اور اَلْاَعْلٰی کہہ کر اس کے رَبُّ العٰلَمِیْن ہونے کی طرف اشارہ کیا۔غرض رَبّ الْعٰلَمِیْن کا صحیح معنوں میں تصور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی دنیا میں قائم ہوا۔چنانچہ اسی امر کی طرف زیرِ تفسیر آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ پہلے تمام انبیاء صرف اپنی اپنی قوم کی ہدایت کےلئے آئے تھے اور ان پر جو کلام نازل ہوئے وہ بھی مختص القوم اور مختص الزمان تھے مگر اب یہ کلام رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ خد ا کی طرف سے دنیا کی تمام قوموں ،دنیا کے تمام ملکوں اور قیامت تک آنے والے تمام زمانوں کےلئے نازل کیا گیاہے اور پھر اس کلام کو ایک بڑی خصوصیت یہ حاصل ہے کہ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنَ۔عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ۔روح الامین اس کلام کو لے کر تیرے دل پر نازل ہوا ہے تاکہ تو لوگوں کو ہوشیار اور بیدا ر کرنے والے لوگوں میں شامل ہوجائے۔عیسائی اس بات کو ہمیشہ بڑے فخر کے ساتھ پیش کیاکرتے ہیں کہ مسیح پر روح القدس نازل ہوا تھا۔حالانکہ قرآن کریم نہ صرف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر روح القدس نازل ہوا تھا بلکہ وہ اس سے بڑھ کر یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر روح الامین نازل ہوتا ہے روح القد س کے نازل ہونے کا وہ ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے کہ قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۠ (النحل:۱۰۳) یعنی اے محمدؐ رسول اللہ تُو لوگوں سے کہہ دے کہ ا س کلام کو روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق و حکمت کے ساتھ اتارا ہے۔تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں وہ ایمان پر ثبات بخشے۔اسی طرح یہ کلام اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں کے لئے مزید ہدایت اور انہیں بشارت دینے کے لئے اس نے نازل کیا ہے۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ روح القدس کا نزول صرف حضرت مسیح ؑ کے ساتھ مخصوص تھا قرآن کریم کو بھی روح القدس ہی لے کر نازل ہوا ہے۔اور پہلے نبیوں پر بھی روح القدس ہی نازل ہوتارہا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر قرآن کریم یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ ہر فرشتہ ہی پاک اورمعصوم ہے اور اس لحاظ سے جو فرشتہ بھی کلام لے کر نازل ہو وہ روح القدس ہی کہلاتاہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُوْمَرُوْنَ (التحریم :۷)یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جس بات کا بھی حکم دیا جائے اس کی نافرمانی کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیںہوتی بلکہ جو کچھ انہیں کہا جائے وہی کچھ وہ عمل کرتے ہیں۔پس