تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 558

یا افریقی ،انگریز ہو یا امریکن ہندوستانی ہو یا جاپانی ان ساروںکے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔اور میری زندگی ان تمام قوموں کی فلاح و بہبود کےلئے وقف ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ رہے مگر بنی اسرائیل کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہے مگر اپنی قوم کےلئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ رہے مگر فلسطینیوں کے لئے۔حضرت نوح علیہ السلام زندہ رہے مگر عراقیوں کے لئے۔حضرت کرشن اور حضرت رامچندر علیہما السلام زندہ رہے۔مگر ہندوستانیوں کیلئے۔انہوں نے تکالیف بھی اٹھائیں اور مصائب بھی برداشت کئے مگر صرف بنی اسرائیل کےلئے یا صرف فلسطینیوں کے لئے یا صرف عراقیوں کے لئے یا صرف ہندوستانیوں کےلئے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے حکم سے فرماتے ہیں کہ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَا تِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (الانعام:۱۶۳)یعنی میںاگر تکالیف اوردکھ اٹھاتا ہوں تو صرف ایک قوم کےلئے نہیں بیشک میں عر ب قوم میں پیدا ہوا ہوں اور وہ میر ی پہلی مخاطب ہے لیکن میرے دکھ اور میرے مصائب ساری دنیا کےلئے ہیں۔کیونکہ میں نے اپنی ساری زندگی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کی ہوئی ہے اور ایسے خدا تعالیٰ کے لئے وقف کی ہوئی ہے جو ربّ العالمین یعنی سب جہانوں کی ربوبیّت کرنے والا ہے۔میں صرف عرب قوم کا لیڈرنہیں ہوں۔میں تو خدا تعالیٰ کا جو رب العالمین ہے بندہ ہوں اور اس کی خاطر میں نے اپنی ساری زندگی وقف کی ہوئی ہے۔وہ اگر ربّ العٰلمین ہے اگر وہ سب جہانوں کی ربوبیّت کرتا ہے تو اس کا خادم ہونے کی حیثیت سے میری تکالیف اور دکھ کسی خاص قوم کے ساتھ کیوں مخصوص ہوں۔میں نے خدا تعالیٰ کو ربّ العالمین سمجھ کر مانا ہے۔ربِّ عرب یا ربِّ بنی اسرائیل سمجھ کر نہیں مانا۔اور جب میں نے اسے ربّ العٰلَمِیْن سمجھ کر مانا ہے تو اس کی جتنی بھی مخلوق ہے سب کی خاطر مجھے اپنے اوپر تکالیف وارد کرنی چاہئیں۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں کثرت سے اس قسم کے احکام پائے جاتے ہیں کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔اور نہ عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے۔مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس جب ایک غیر قوم کی عورت نے آکر کہا کہ اے استاد تو مجھے بھی اس سچائی سے حصّہ دے جو تو بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرتا ہے تواس عورت کی خاطردکھ اور تکلیف اٹھانا تو الگ رہا۔حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا۔بیٹوں کی روٹی میں کُتّوں کے آگے کیسے پھینک دوں (متی باب ۱۵ آیت ۲۶)۔گویا ان کی نگاہ میں بنی اسرائیل تو خدا کے بیٹے تھے اور غیر قومیں کتّوں کی مانند تھیں۔اس کے مقابلہ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ میں۔ایسے ابتدائی زمانہ میں جبکہ ابھی تعلیم مکمل نہیںہوئی تھی۔جبکہ قرآن کریم کا ایک پارہ بھی پورا نازل نہیں ہؤا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدایت اور راستی کے متلاشی آتے