تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 556

ابدالآباد مبارک ہو‘‘۔(۱۔تواریخ باب ۱۶آیت ۳۶) ’’ خداوند خدااسرائیل کا خدا جو اکیلا ہے عجائب کام کرتا ہے۔‘‘ ( زبورباب ۷۲آیت ۱۸) لیکن قرآن کریم نے اس نقطہ نگاہ کو بالکل بدل دیا۔اس نے خدا تعالیٰ کو رب العالمین کی شکل میں پیش کیا اور بتایا کہ وہ صرف افراد اور قوموں کا ہی خدا نہیں بلکہ سب مخلوق کا خدا ہے اس کی ابتداء ہی اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَسے ہوئی ہے۔یعنی خدا تعالیٰ جو سب جہانوں کا رب ہے اس کی برکات کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں بلکہ جس طرح جسمانی طور پر اس کے فیوض سب کو پہنچتے ہیں اسی طرح روحانی طور پر بھی اس نے اپنے فیض سے کسی کو محروم نہیںکیا۔کفار کو اس خیال پر اس قدر حیرت ہوئی کہ وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ اَجَعَلَ الْاٰ لِھَةَ اِلٰھًا وَّاحِدًا (ص :۶) یعنی اس نے تو کئی خدائوں کوکوٹ کا ٹ کر ایک خدا بنا دیاہے۔ان کے خیال میں یہ امر آہی نہیں سکتا تھا کہ اصل میں ایک ہی خدا ہے او رباقی سب مصنوعی خدا ہیں کیونکہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے یہی الفاظ سنتے تھے کہ ’’ہمار ا خدا اور تمہار ا خدا اور‘‘ گو توحید ان کے سامنے پیش کی جاتی تھی۔مگر وہ توحید کا یہ مطلب نہیں لیتے تھے کہ سب کا خدا ایک ہے۔بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ خد اتو ایک ہے مگر وہ بنی اسرائیل کایا مسیحیوں کا خدا ہے اور اگر وہ سچا ہے تو پھر ہم بغیر خدا کے ہیں۔مگر اسلام نے بتایا کہ وہ مومن وکافر سب کا خدا ہے اورپھر وہ ایک ہی خدا ہے۔یہ بیان اس صفائی کے ساتھ دنیا کے لئے بالکل نرالہ تھا۔مگر یہ نرالہ پیغام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو دیا گیا اور پھر نرالے طور پر آپ کو ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا جب کہ پہلے انبیاء صرف ایک ایک قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور اس طرح آپ کے ذریعہ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ کا تصور دنیا میں قائم کیا گیا حالانکہ آپؐ ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے تھے جس کے باقی دنیا سے کوئی تعلقات نہیں تھے۔عرب باقی ساری دنیا سے کٹا ہوا ملک تھا اور عرب کی دنیا صرف عرب تک ہی محدود تھی۔اوراگر وہ دوسری قوموںکے متعلق کوئی خیال رکھتے بھی تھے تو صرف منافرت کا خیال تھا۔عربوں میں تکبر اتنا زیادہ پایا جاتا تھا کہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان سے بڑا کوئی ہے ہی نہیں۔صرف رومن اور ایرانی حکومتوں کی سیاسی برتری کو وہ تسلیم کرتے تھے گویا سیاسی نقطہ نگاہ سے تو وہ عرب کو ادنیٰ سمجھتے تھے لیکن قومی نقطہ نگاہ سے وہ باقی تمام دنیا کو ذلیل خیال کرتے تھے اور قومیت کا خیال آتے ہی وہ عرب کو باقی تمام قوموں سے بالا سمجھنے لگتے تھے۔ہاں جب سیاست کا سوال آتا تو وہ رومن اور ایرانیوںکے درباروں میں جا کر رومی اور ایرانی بادشاہوں کو حضور کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے کیونکہ جب وہ ان کے درباروں میں جاتے تھے تو کچھ لینے کے لئے جاتے تھے۔غرض نہ وہ جغرافیائی حیثیت سے ایک دنیا کے قائل تھے اور نہ قومی لحاظ سے ایک دنیا کے قائل تھے۔پھر جو لوگ رومن اور ایرانی درباروں میں جاتے بھی تھے ان کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی تھی بالعموم ان میں وہی لوگ