تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 543
میں اپنے گھوڑے کو جانتا ہوں۔اس کی قیمت پانچ سو درہم ہی ہے۔اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ اس کے کتنا اُلٹ نظارہ دنیا میں نظر آتا ہے۔وہاں تو یہ تھا کہ چیز خریدنے والا قیمت بڑھاتا تھا اور چیز بیچنے والا قیمت گراتا تھا۔اوریہاں یہ حال ہے کہ دودو آنے کی چیز بعض دفعہ دس دس روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔ضرور ت اس امر کی ہے کہ خریدار بھی دوکانداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں اور دوکاندار بھی گاہکوں کو فریب سے گندی چیزیں نہ دیں۔اور نہ ماپ اورتول میں انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔حضرت شعیب علیہ السلام نےاپنی قوم کو تجارتی دیانت اختیار کرنےکی نصیحت کرنےکے بعد ایک اور نصیحت یہ فرمائی کہ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ تم زمین میں فسا د نہ کرو۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس قوم میں قتل و غارت اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں بھی کثرت سے ہوتی رہتی تھیں۔چونکہ یہ علاقہ عرب اور شام اور مصر کے راستوں پر تھا اور شام اور مصر کو جانے والے قافلے ان کے پاس سے گزراکرتے تھے معلوم ہوتا ہے یہ لوگ مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے اور بعض کو قتل بھی کردیا کرتے تھے۔اِس قیاس کو مزید تقویت اس امر سے بھی حاصل ہوتی ہے کہ یہ لوگ اصحاب الایکہ تھے۔یعنی ان کے قبضہ میں ایک بہت بڑا جنگل تھا جس میں بیریاں اور پیلو کے درخت بڑی کثرت کےساتھ تھے اور ایسے جنگل میں ڈاکہ ڈالنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔کیونکہ درختوں کے پیچھے انسان آسانی سے چھپ جاتا ہے۔پس حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں نصیحت کی کہ تم تجارتی معاملات میں بھی دیانت اختیار کرو اور چوری،ڈاکہ زنی اور قتل وغارت کو بھی ترک کردو۔وَ اتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَؕ۰۰۱۸۵ اور جس نے تم کو اور تم سے پہلی مخلوق کو پیدا کیا ہے اس کا تقویٰ اختیار کرو۔حلّ لُغَات۔جِبِلَّۃٌ۔جِبِلَّۃٌ مفرداتِ امام راغب میں ہے۔جِبِلًّا کَثِیْرًا ای جَمَاعَۃً یعنی جِبِلًّا کے معنے جماعت کے ہیں (مفردات) پس اَلْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَ کے معنے ہوں گے پہلی جماعتیں۔تفسیر۔پھر فرمایا تم اس خدا سے ڈرو جس نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پہلی قوموں اور جماعتوں کو بھی پیدا کیا ہے یعنی آج تو تم اپنے ان افعال پر نازاں ہو۔لیکن کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہی ناپسندیدہ حرکات کی وجہ سے تم