تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 539

نہیں ہوتی تھی۔کشمیر میں مَیں نے دیکھا ہے وہاں لوگ مشک کا نافہ لاتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس کے اندرا یک تولہ مشک ہے۔اور اس کی اصل قیمت بتیس روپے ہے مگر چونکہ ہمیں روپے کی ضرورت ہے اس لئے ہم آپ کو چوبیس پچیس روپے میں نافہ دے دیں گے۔پھر وہی نافہ جس کی وہ پچیس روپے قیمت بتاتے ہیں بعض دفعہ آٹھ آنہ میں بھی دے دیتے ہیں۔اور جب تم آٹھ آنہ میںمشک کا نافہ لے کر یہ سمجھتے ہو کہ دنیا کے سب سے بڑے ماہر تم ہو کیونکہ تم نے ایک شخص سے مشک کانافہ آٹھ آنہ میں لے لیا تو اس وقت بھی تم دھوکہ خوردہ ہوتے ہو۔کیونکہ جب اسے کھول کر دیکھا جاتا ہے تو اس میں سے کبوتر کے جمے ہوئے خون کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا اور تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ بڑے ماہر تم نہیں بلکہ بڑا ٹھگ وہی تھا جو تمہیں لوٹ کر لے گیا۔وہ نافہ کے باہر تھوڑی سی مشک مل دیتے ہیں اوراندر کبوتر کا خون بھر دیتے ہیں۔کبوتر کے خون کی بعض دوائیوں کے ملانے سے بالکل مشک کی سی شکل ہوجاتی ہے اور ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ آج میں نے بڑا سستا سودا کیا ہے۔میں نے آٹھ آنہ میں مشک کا نافہ خرید لیا ہے۔حالانکہ اس میں صرف کبوتر کا خون ہوتا ہے اور کبوتر کے خون کی قیمت ایک روپیہ بھی نہیں ہوتی۔اسی طرح ایک دفعہ میں کشمیر گیا۔وہاں ایک قسم کی قالین بنتی ہے جو اونی کپڑے کاٹ کاٹ کر اور پھر ان کو سِی کر بناتے ہیں۔اور اس کو گابھاؔ کہتے ہیں۔ہمیں وہ دیکھ کر پسند آیا۔چنانچہ میں نے بھی چاہا کہ یہاںسے دوچار خرید کر لے جائیں۔اپنے گھروں میں تحفہ دیں گے۔ایک شخص اسلام آباد میں اس کا م کے لئے اچھا مشہور تھا۔میں نے اس کو جا کر کہا۔کہ میں یہ قالین پنجاب میں تحفۃً لے جانا چاہتاہوں تم مجھے اچھے سے قالین بنا دو۔اُس نے کہا۔اچھا کچھ پیشگی دے دیں۔چنانچہ ہم نے کچھ رقم اس کو پیشگی دے دی اور ہم آگے پہاڑ پر سیر کے لئے چلے گئے۔میں نے اُسے یہ بھی کہا کہ دیکھنا میں جو اس کی لمبائی چوڑائی بتائوں گا وہ ٹھیک ہو۔کیونکہ میں کمروں کے لحاظ سے لے رہا ہوں۔اُس نے کہا۔بالکل ٹھیک ہوں گے۔جب وہ آئے تو مجھے دیکھتے ہی پتہ لگ گیا کہ وہ ٹھیک نہیں ہیںاور پھر جو ماپ کر دیکھا تو ایک بالشت چوڑائی میں کمی تھی اور ایک بالشت لمبائی میںکمی تھی۔میں نے اس کو کہا کہ یہ تم نے بڑی دھوکا بازی کی ہے کہ اس کو چھوٹا بنادیا ہے۔اس پر اس نے شور مچانا شروع کردیا کہ ’’میںمسلمان ہوں‘‘ ’’میں مسلمان ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔مسلمان تو تم ہوئے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے ساتھ تمہارا وعدہ تھا یا نہیں کہ اتنے لمبے چوڑے قالین بنائوں گا۔اور پھر دوچار آدمیوں کے سامنے یہ بات ہوئی تھی۔میں نے ان آدمیوں سے کہا کہ بتائو تمہارے سامنے اس نے یہ وعدہ کیا تھا یا نہیں۔انہوں نے کہا ہمارے سامنے وعدہ کیا تھا۔اس پر میں نے اسے کہا