تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 538
طرح بعض غلّہ فروش کمپنیوں کے ایجنٹ غلّہ خریدتے ہیں۔تو اس میں باریک غبار ملادیتے ہیں۔چونکہ لاکھوں کا غلّہ ہوتاہے اس لئے ان کی یہ چا لاکی چھپی رہتی ہے اور ہر ایک کو اس کا پتہ نہیں لگتا۔بعض لوگ غلّے کو پانی کا چھینٹادے دیتے ہیں۔تاکہ بوجھل ہو جائے۔اسی طرح اگر کسی کو کچھ خریدنا ہوتا ہے تو کہتا ہے میں نے اتنا مال لیا مگر تم کچھ بھی رعایت نہیں کرتے اور اگر بیچنا ہوتا ہے تو کہتاہے کہ کیا تم ہمارا گھر ہی لوٹ کر لے جائو گے۔اسی طرح بمبئی کے بعض تجار کی نسبت تو عجیب روایات سنی جاتی ہیں۔کہتے ہیں کہ بعض تاجروں کے تین قسم کے باٹ ہوتے ہیں (۱)پورے وزن کے (۲)بھاری اور(۳)ہلکے۔اور ان کے انہوں نے عجیب عجیب نام رکھے ہوئے ہیں۔کسی کا نام سُبْحَانَ اللہِ رکھا ہواہوتا ہے۔کسی کانام أَسْتَغْفِرُاللہ اور کسی کانام لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ۔اور جس قسم کا کوئی آدمی دیکھتے ہیں اُسی طرز کا اس سے سلوک کرتے ہیں۔اگر ہوشیا ر آدمی ہواتو اصل بٹہ نوکر کو لانے کاحکم دیا۔اور وہ لفظ بول دیا جس سے اصل بٹوں کی طرف اشارہ ہوتاہے۔کوئی سادہ لوح آیا تو چھوٹے بٹے منگوالئے۔اسی طرح دھوکا باز عطاروں کا طریق ہے کہ علاقہ میں کوئی وباء شروع ہوجائےاور حکیم لکھنا شروع کردیتے ہیں کہ مریض کو عرق مکو اور عرق گائو زبان پلائو تو ایک دیانت دار عطار تو بعض دفعہ کہہ دے گا کہ میرے پاس عرق مکو اور عرق گائو زبا ن تیار نہیں۔لیکن بددیانت عطار کہے گا۔میرے پاس دونوں چیزیں موجود ہیں۔و ہ پانی لے گا بوتل میں بھر دے گا اور کہے گا یہ عرق مکو ہے۔یہ عرق کا سنی ہے۔یہ عرق گلا ب ہے۔تم جو عرق بھی مانگو گے وہ اس کے پاس موجو د ہو گا۔ہماری تاریخ طبّ کی کتابوں میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک عبّاسی بادشاہ نے کہا۔اب طبّ بڑی ترقی کررہی ہے۔اس پر کسی نے کہا۔طبّ ترقی کیسے کرسکتی ہے۔جب تک دوائیں بیچنے والوں میں دیانت پیدا نہ ہو۔طبیب چاہے کوئی نسخہ لکھے اس سے کیا فائدہ ہوگا۔بادشاہ نے کہا۔بغداد میں پانچ چھ سو دوکانیں ہیں۔تم تجربہ کرلو۔اس پر انہوں نے کسی دوائی کا مصنوعی نام رکھ لیا اور کہا۔یہ دوا منگوا دو۔وہ دواآنی شروع ہوئی۔کسی دوا فروش نے ملٹھی بھیج دی اور کہہ دیا یہی وہ دوا ہے۔کسی نے عناب بھیج دی اور کہہ دیا یہی وہ دوا ہے۔غرض سب دوکانداروں نے یہی طریق اختیار کیا۔صرف ایک دوکاندار ایسا نکلا جس نے کہا کہ میرے پاس یہ دوا نہیں۔میں نے یہ نام پہلے کبھی نہیں سنا۔بادشاہ نے دریافت کیا کہ کس دوکاندا ر نے سچ بولا ہے۔تو طبیبوں نے کہا۔سب جھوٹ بولتے ہیں۔سچا وہی ہے جو کہتا ہے کہ میں نے یہ نام پہلے نہیں سنا۔کیونکہ ہم نے مصنوعی نام رکھ کر یہ تجربہ کیا تھا۔اس تجربہ کی وجہ سے مسلمان بادشاہوں نے دوا سازی کا بھی امتحان رکھا تھا اور دوائوں کی پہچان کے لئے سکول بنائے گئے تھے اور جو شخص وہ مخصوص امتحان پاس کر لیتا تھا صرف اس کو دوائی بیچنے کی اجازت دی جاتی تھی۔عام لوگوں کو دوا فروشی کی اجازت