تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 537

سے تعلق رکھتی ہے۔جس طرح اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اخلاص سے ایک پیسہ دیتا ہے اور وہ یہ امید رکھتا ہے کہ اس کا ایک پیسہ امیر آدمی کے ایک لاکھ روپیہ سے کم نہ سمجھا جائے اور وہ اخلاص سے ایک پیسہ دے کر سمجھتا ہے کہ اس نے ایک لاکھ روپیہ دینے والے جیسی قربانی کی ہے تو اسی طرح اگر کوئی شخص ۵ فیصدی ٹھگی کرتا ہے تو وہ بھی ٹھگ ہے اور جو ۱/۱۰۰۰ حصہ کی ٹھگی کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی ٹھگ ہے۔جس طرح نیکی کی جزا نیت پر ہے اور اسی طرح بدی کی سزا بھی نیت پر ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ یہ نہیںدیکھتا کہ اس کی راہ میں ایک غریب نے اخلاص سے ایک پیسہ دیا اور دوسرے امیر نے ایک لاکھ روپیہ دیا۔بلکہ وہ اخلاص دیکھتا ہے اور اس کے مطابق جزا دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ یہ نہیں دیکھے گا کہ ایک نے ۵ فی صدی ٹھگی کی ہے اور دوسرے نے آدھ فی صدی بلکہ وہ کہے گا کہ دونوں نے ٹھگی کی ہے۔۵ فیصدی ٹھگی کرنے والے نے بھی ٹھگی کی ہے اور ۱/۱۰۰۰حصہ ٹھگی کرنے والے نے بھی ٹھگی کی ہے تقدس اور نجاست کا دل سے تعلق ہوتا ہے اور جس طرح زیادہ نیکی بھی نیکی اور تھوڑی نیکی بھی نیکی سمجھی جاتی ہے اسی طرح زیادہ بدی بھی بدی اور تھوڑی بدی بھی بدی سمجھی جاتی ہے۔ممکن ہے کسی جگہ دوکاندار خود اس قسم کی حرکات نہ کرتے ہوں اور باہر سے بے احتیاطی سے اس قسم کا ناقص مال لے آتے ہوں۔لیکن اس صورت میں بھی وہ بری نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر کوئی شخص جاتا ہے اور خراس والے سے گندہ آٹا لے آتا ہے تو یہ اسی کا قصور ہے اگر گندہ آٹا تھا تو وہ کیوں لایا۔اُسے چاہیے تھا کہ وہ نہ لاتا۔اور اگر وہ ناقص مال سمجھ کر سستا لے آیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ بلا واسطہ فائدہ اٹھاتا ہے۔مثلاً دوسری جگہ سے اچھا آٹا خریدتا تو اس کے ایک سو ایک روپے خرچ ہوتے۔لیکن جس خراس والے سے اس نے خریدا اُسے سو روپے دینے پڑے تواس صور ت میں بھی یہ ٹھگ ہے کیونکہ یہ دوسرے کی ٹھگی میں شریک ہوتا ہے۔پس اگر اس قسم کی ٹھگی یہ خود نہیں کرتا بلکہ باہر سے ناقص سودا لاتا اور بیچتا ہے تب بھی وہ ویسا ہی ٹھگ ہے جیسے اپنے ہاتھ سے آٹے میں مٹی ملانے والا۔ولایت میں کئی چور ایسے ہیں جو یتیم بچوں کی پرورش کرتے اورپھر ان کے ذریعہ چوریاں کرواتے ہیں۔اب کیا تم سمجھتے ہو وہ یتیم بچوں کے ذریعہ چوریاں کروانے کی وجہ سے کم چورہیں۔اگر خود چوری کرتے تو زیادہ چور ثابت ہوتے۔وہ ویسے ہی چور ہیں جیسے اپنے ہاتھ سے چوریاں کرنے والے۔اسی طرح جب تم خراس سے ناقص آٹا لاتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ وہ خراب ہے تو تم ویسے ہی مجرم ہو جیسے اپنے ہاتھ سے آٹے میں مٹی یا ریت ملانے والا۔پھر کئی لوگ بظاہر دیانت دار بھی ہوتے ہیں اور وہ مٹی نہیں ملاتے لیکن جب گیہوںکو صاف کرنے کے لئے زمین پر پھیلاتے ہیں تو اسے سمیٹتے وقت جب جھاڑو دیں گے تو پائو یا سیر کے قریب اس میں مٹی بھی ملا دیں گے اور اپنی طرف سے یہ سمجھیں گے کہ ہم تو بڑے دیانت دار ہیں حالانکہ وہ دیانت دار نہیں ہوتے۔اسی