تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 536

وزن میں کمی کردیتے تھے۔جس کےلئے ممکن ہے انہوں نے مختلف قسم کے باٹ رکھے ہوئے ہوں۔اشیاء لیتے وقت اور قسم کے بٹے استعمال کرتے ہوں اور دیتے وقت اور قسم کے بٹوں سے وزن کرتے ہوں۔پھر وہ ڈنڈی مارنے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔اور ماپ اور تول دونوں میں لوگوں کو لوٹنے کی کوشش کرتے تھے۔حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں تجارتی بددیانتی سے بازرکھنے کی کوشش کی۔مگر وہ لوگ جنہیں حرام مال کھانے کی چاٹ لگ گئی تھی اس سے کب باز آنے والے تھے انہوں نے اور بھی اپنے ہاتھ رنگنے شروع کردیئے اور آخر وہ وقت آیا جب اُن کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور آسمان سے عذاب کے فرشتے ان کی تباہی کے لئے نازل ہوگئے۔افسوس ہے کہ یہ مرض اس زمانہ میں بھی بڑے زوروں پر ہے اور دیانت ہمارے ملک سے اس حد تک اٹھ چکی ہے کہ ہرشخص چاہتا ہے کہ وہ دوسرے کو جس حد تک ممکن ہولوٹے اور نقصان پہنچائے۔گاہک چاہتے ہیں کہ دوکاندار کم قیمت وصول کریں۔اور دوکاندار اس کا علاج یہ سوچتے ہیں کہ وہ ناقص اور گندی چیزیں کم قیمت پر گاہکوں کو دے دیتے ہیں میں تو سودا لینے نہیں جاتالیکن چونکہ سودے ہمارے گھروں میںآتے رہتے ہیں اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ سودوں میں بالعموم دیانت سے کام نہیں لیاجاتا۔آٹے میں مٹی ملی ہوئی ہوتی ہے اور کھانڈ اور شکر میں بھی بہت کچھ میل اور گند ہوتاہے یہ دوچیزیں ایسی ہیں جو فوراً نظرآجاتی ہیں چنانچہ کھانڈ کے ہرچمچہ میں انسان اگر آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے بہت سی مٹی ملی ہوئی دکھائی دے گی۔جس سےصاف معلوم ہوتا ہے کہ وزن زیا دہ کرنے کے لئے مٹی ملائی جاتی ہے۔اسی طرح آٹے میں ریت اور مٹی ہوتی ہے۔دانت کے نیچے آٹے کو ذرا چبا کر دیکھو تو فوراً اس سے کِرکِر کی آواز آنے لگے لگی۔عام طور پر ہمارے ملک میں لوگ اپنی صحت کا خیال نہیںرکھتے حالانکہ اگر وہ لقمہ چباچبا کر کھانے کی عادت رکھتے توا نہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ آٹا نہیں کھا رہے بلکہ گند کھا رہے ہیں۔نوّے فی صدی آٹا ایسا ہوتا ہے جس میں کِر ک ہوتی ہے۔ذرا اسے دانتوں کے نیچے دباؤتو کِر کِر کی آواز آنے لگ جائے گی اور یہ صحت کےلئے سخت مضر ہوتا ہے۔پھر یہ دھوکہ بازی بھی ہے کہ دوکاندار قیمت خالص آٹا کی وصول کرتے ہیں اور آٹا وہ دیتے ہیں جس میں ریت اور مٹی ملی ہوئی ہوتی ہے۔بد دیانتی صرف اس چیز کا نام نہیں کہ تم کسی کا ناحق روپیہ لے لیتے ہو بلکہ بددیانتی اس بات کا بھی نام ہے کہ تم کسی کی کوڑی اُٹھالیتے ہو۔اسی طرح بددیانتی صرف اس کا نام نہیں کہ تم ۹۵فی صدی آٹا اور ۵فیصدی مٹی ملا کر دو بلکہ اگر تم ۹۸فیصدی آٹااور ۲فیصدی مٹی ملاتے ہو۔یا ننانوے فیصدی آٹا اور ۱فیصدی مٹی ملاتے ہو یا ساڑھے ننانوے فیصدی آٹااورنصف فیصدی مٹی ملاتے ہو بلکہ اگر تم ۹۹۹ حصّہ آٹا اور ۱/۱۰۰۰ حصہ مٹی ملاتے ہو تو وہ بھی ویسی ہی بددیانتی اور گندی عادت ہے جیسے۵فیصدی مٹی ملانا۔نیکی اور بدی دل