تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 521
کہ الٰہی جماعتوں کے تبلیغی راستہ میں روڑے اٹکانا اور خدا تعالیٰ کے نام بلند کرنے کی اجازت نہ دینا قوموں کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بنا دیتا ہے۔مگریہ چیز تو بعد میںآنے والے لوگوں کے لئے صرف درس عبرت کا کام دے رہی ہے۔خود اس قوم کی اکثریت ایمان سے محروم رہی مگر یہ قوم بھی اپنی ہلاکت اوربربادی سے خدا تعالیٰ کے عزیز اور رحیم ہونے کو ثابت کرگئی۔اُس نے چاہا تھا کہ صالح ؑ مغلوب ہو مگر خدا اور اس کا رسول ہی غالب آئے۔اورپھر اس نے چاہا تھا کہ صالح ؑ کی تبلیغی مساعی رنگ نہ لائیں اور خدا اور اس کے رسول کا نام دنیا میں نہ پھیلے مگر خدا تعالیٰ کی رحیمیت نے حضرت صالح ؑ کی تبلیغی کوششوں میں برکت ڈالی اور ان کے انفاسِ قدسیہ سے ایک ایسی جماعت تیارہوگئی جس نے خدا تعالیٰ کے نور کی قندیلیں اپنے سینوں میں روشن کیں اور بھولی بھٹکی دنیا کے لئے ہادی اور راہنما بن گئی۔كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ ا۟لْمُرْسَلِيْنَ۠ۚۖ۰۰۱۶۱اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لوط ؑ کی قوم نے بھی رسولوں کا انکار کیا۔جب کہ ان کے بھا ئی لوط نے کہا کہ کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ۰۰۱۶۲اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ۰۰۱۶۳فَاتَّقُوا میں تمہاری طرف ایک امانت دار پیغامبر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پس اللہ (تعالیٰ)کا تقویٰ اختیار کرو اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِۚ۰۰۱۶۴وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اور میری اطاعت کرو۔اور میں اس (کام) کے بدلہ میں تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا۔اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۶۵اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ میر ابدلہ تو صر ف ربّ العالمین کے ذمہ ہے۔کیا تمام مخلوقات میں سے تم نے نروںکو اپنے لئے چُنا ہے۔الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۱۶۶وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اور تم ان کو چھوڑتے ہو جن کو تمہارے ربّ نے تمہاری بیویوں کی حیثیت سے پید ا کیا ہے (صرف یہی نہیں کہ تم ایسا