تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 520

میںکہا کہ لو یہ میری اونٹنی ہے۔چشمہ پر تم اکھٹے ہوتے ہوتو فساد ہوتا ہے۔اب تمہارے امتحان کےلئے یہ نشان مقرر کیا جاتاہے کہ ایک دن یہ پانی پیئے گی اور ایک دن تم پانی پی لینا یعنی اپنے جانوروں کو پانی پلانا اور اپنے لئے بھی پانی لے لینا اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا اگر تم اس کے خلاف عمل کرو گے تو تم کو ایک بڑے دن کا عذاب پکڑلے گا۔انہوں نے اس اونٹنی کے پائوں کاٹ دیئے۔مگر بعد میں شرمندہ ہوگئے۔لوگ ان آیات سے اونٹنی کی خصوصیات نکالنا شروع کردیتے ہیں۔بلکہ بعض مفسرین نے تو عجیب وغریب قصے بھی بیان کردئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت صالح علیہ السلام کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم تو تب مانیں گے جب فلاں پہاڑ سے اونٹنی پید اکر دو۔انہوں نے دعا کی تو پہاڑ میں سے اونٹنی نکل آئی اور پھر اسی وقت اس اونٹنی نے اپنے جیسا ایک بچہ بھی جن دیا۔( تفسیر جلالین ودرمنثورسورۃ اعراف قولہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا۔۔الی قولہ تعالیٰ ولکن لا تحبون الناصحین)مگریہ سب لغو باتیں ہیں جن کا قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں۔قرآن کریم اس اونٹنی کی پیدائش کو نشان قرار نہیں دیتا بلکہ اس کی آزادی کو نشان قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر کفار نے اس اونٹنی کو دکھ پہنچایا تووہ عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔مگر اس لئے نہیں کہ وہ اونٹنی اپنی ذات میں کوئی اہمیت رکھتی تھی بلکہ اس لئے کہ حضرت صالح ؑ اس اونٹنی پر چڑھ کر سارے ملک میں تبلیغ کیا کرتے تھے۔اُس زمانہ میں موٹر نہیں تھے نہ ریل اور ہوائی جہاز وغیرہ ایجاد ہوئے تھے۔سفر کا ذریعہ صر ف اونٹنی تھی جس پر سوا ر ہوکر حضرت صالح ؑ خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے تھے۔چونکہ مخالف ان کی اس تبلیغی تگ ودو کو پسند نہیں کرتے تھے اس لئے لازماً وہ آپ کے تبلیغی سفروں میں روک ڈالتے ہوں گے اور آپ کو ادھر اُدھر ہونے نہیں دیتے ہوں گے۔جب ان کی شوخیاں اور شرارتیں حد سے گزر گئیں تو اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو ان کے لئے ایک نشان قرار دے دیا اور فرمایا کہ تم صالح کی اونٹنی کو اِدھر اُدھر پھرنے دواور اس کی تبلیغی مساعی میں روک مت بنو۔ورنہ خدا تعالیٰ کے عذاب کا مورد بن جائو گے انہوں نے اس انذار کو بھی ایک مجنونانہ بڑ خیال کیا اور تمرّد اور سرکشی سے کام لیتے ہوئے اس اونٹنی کے پائوں کاٹ دیئے۔جس کے معنے یہ تھے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو چیلنج کیا اور کہا کہ ہم اپنے ملک میں تیرے نام کو بلند کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے ملک کے دروازے بند کردیئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس ملک کے دروازے ان کے لئے بند کردیئے۔اور اس نے انہیں اپنی قہری تلوار کا نشانہ بنا دیا۔بیشک عذاب کو دیکھ کر آخر میں وہ شرمند بھی ہوئے۔مگر اس وقت شرمندگی کا کیا فائدہ تھا۔فرماتا ہے اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً۔وَمَا کَانَ اَکْثَرَھُمْ مُّوْمِنِیْنَ اس واقعہ میں بھی ایک بڑا بھاری نشان ہے جو آئندہ آنے والی نسلوںکو یہ سبق دیتا ہے