تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 515
بیشک شریعت نے تمہیں قصاص کا حق دیا ہے۔لیکن اگر تم معاف کردو تو اچھا ہے۔مگر دوسرے فریق پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ لوگ یہی کہتے چلے گئے کہ دانت کے بدلے جب تک دانت نہ توڑا جائے گا ہم نہیں ٹلیں گے۔آخر حضرت ابوہریرہؓ کو جوش آگیا۔اور انہوں نے کہا۔خدا کی قسم میری رشتہ دار عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا یہ الفاظ انہوں نے ایسے جوش سے کہے کہ وہ لوگ جو اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش بھی نہیں مان رہے تھے۔ڈرگئے اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ !ہم نے معاف کیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے جسم غبار آلود ہوتے ہیں مگر جب وہ کسی معاملہ میں خد اتعالیٰ کی قسم کھالیں تو خدا تعالیٰ ان کے متعلق اپنی غیرت دکھلاتا اور اس با ت کو پورا کردیتا ہے جس کے لئے وہ قسم کھاتے ہیں۔تو دیکھو حضر ت ابوہریرہ ؓ نے جب خدا کی قسم کھاکر یہ کہا کہ میری اس رشتہ دار عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا تو وہ لوگ جو اس بارہ میں خود حضرت ابو ہریرہؓ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش بھی ماننے کےلئے تیار نہیںتھے یکدم ان کی طبیعت بدل گئی۔اور انہوں نے اپناحق چھوڑ دیا۔پس مومنوں کو اس بات کی اہمیت سمجھنی چاہیے کہ انہیں ہمیشہ ایک دوسرے کو سمجھاتے رہنا چاہیے اور یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ دوسرے کی اصلاح نہیںہوسکتی۔اور اگر بالفرض دوسرے کی اصلاح نہ بھی ہو تو کم سے کم جو شخص دوسرے کو سمجھائے گا اس کی اپنی اصلاح تو ہوجائے گی۔بہرحال دوسرے کو سمجھانا فائدہ کے بغیر نہیںہوتا۔پس وعظ و نصیحت کا سلسلہ اپنے اندر بھی جاری کرنا چاہیے اور غیروں میں بھی جاری کرنا چاہیے۔جہاں دوست ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھیں ان کافرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہیں کہ سچ بولو۔معاملات میں صفائی رکھو۔گالی گلوچ سے کام نہ لو۔جھگڑا نہ کرو۔محبت اور پیار سے رہو۔جب اس قسم کے وعظ و نصیحت کاسلسلہ بند ہوجائے تو نئی پود کئی قسم کی غلطیوں میں مبتلا ہوجاتی ہے پرانے لوگ تو شیطان سے بہت سی لڑائیاں لڑچکے ہوتے ہیں۔اور ان کے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا ہوچکا ہوتا ہے۔مگر نئی پود نے وہ لڑائی نہیں کی ہوتی اس لئے شیطان ان کے اندر آسانی سے داخل ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آدمؑ اور شیطان کاقصہ اسی لئے بیان کیا ہے کہ ذرا سی غفلت بھی بہت بڑے نقصان کا موجب ہوجاتی ہے۔اگر آدمؑ جو شیطان کے ساتھ دیر سے جنگ کرتا چلا آرہاتھا۔دھوکا کھا سکتا ہے تو جن سے شیطان کی ابھی جنگ ہی نہیں ہوئی وہ تو اس کے فریب میں بہت جلد آسکتے ہیں۔آدمؑ اسی لئے شیطان کے دھوکا میں آیا کہ شیطان مذہب کا لبادہ اوڑھ کر آدمؑ کے سامنے آیا اور حضرت آدمؑ نے سمجھا کہ اب اس کی اصلاح ہو چکی ہے۔چنانچہ انہوںنے اس کے ساتھ صلح کرلی۔اور نتیجہ خراب نکلا۔مگر جس شخص نے شیطان سے ابھی لڑائی شروع ہی نہیں کی۔اس کے سامنے اگر شیطان بزرگ بن