تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 508

كَذَّبَتْ عَادُ ا۟لْمُرْسَلِيْنَ۠ۚۖ۰۰۱۲۴اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ (اسی طرح)عادؔ نے بھی رسولوں کا انکار کیا۔جب کہ ان سے ان کے بھائی ہود ؑ نے کہا۔اَلَا تَتَّقُوْنَۚ۰۰۱۲۵اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ۰۰۱۲۶فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ کیا تم تقویٰ نہیں کرتے۔میں تمہاری طرف ایک امانت دار پیغامبر ہوکر آیا ہوں۔پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اَطِيْعُوْنِۚ۰۰۱۲۷وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا اور میر ی اطاعت کرو۔اور میں تم سے اس (خدمت) پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ صرف عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۲۸ رب العالمین خد اکے ذمہ ہے (جس نے مجھے بھیجاہے)۔تفسیر۔ان آیات میں حضرت ہود ؑ کو پھرتمام رسولوں کا قائم مقام بتایا گیا ہے۔اور رسول کی جگہ مرسلینؔ کا لفظ اس کےلئے استعمال کیا گیا کیونکہ ایک رسول کا انکار درحقیقت تمام رسولوں کا انکار ہوتاہے۔فرماتا ہے۔جس طرح نوح ؑ کو اس کی قوم نے جھٹلایا تھا۔اسی طرح ہود ؑ کوبھی اس کی قوم عاد نے جھٹلایا۔حالانکہ اس کےزمانہ میں بھی ہم نے یہی حکم دیا تھا۔کہ علاوہ کلامِ الٰہی کی اطاعت کے خود ہود ؑ کی اطاعت بھی ضرور ی ہے جس کی طرف اَطِیْعُوْنِ میں اشارہ کیا گیا ہے۔اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ۰۰۱۲۹وَ تَتَّخِذُوْنَ کیاتم ہر ٹیلہ پر فضول کام کرتے ہوئے عمارت بناتے ہو۔اور تم بڑے بڑے محل بناتے ہو تاکہ تم ہمیشہ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ۰۰۱۳۰وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ قائم رہو۔اورجب تم کسی کو پکڑتے ہو تو ظالموں کی طرح پکڑتے ہو۔پس اللہ (تعالیٰ) کا تقویٰ اختیار کرو