تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 507
مفعول ہے۔اور رَجَمَہٗ کے معنے ہیں۔رَمَا ہُ بِالْحِجَارَۃِ۔اس کو پتھر مارے۔قَتَلَہٗ۔اس کو قتل کیا۔قَذَفَہٗ۔اس پر الزام لگایا۔لَعَنَہٗ۔اُس پر لعنت کی۔شَتَمَہٗ۔اس کو گالی دی۔ھَجَرَہٗ۔اُس کو جدا کردیا طَرَدَہٗ۔اس کو دھتکاردیا (اقرب) اَلْمَشْحُوْنُ۔اَلْمَشْحُوْنُ: شَحَنَ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔اور شَحَنَ السَّفِیْنَۃَ کے معنے ہیں مَلَأَ ھَا کشتی کو بھردیا (اقرب) پس اَلْمَشْحُوْنُ کے معنے ہوںگے۔بھری ہوئی۔تفسیر۔حضرت نوح علیہ السلام کے مخالفین نے جب دیکھا کہ وہ دلائل سے نوح ؑ کو مغلوب نہیں کرسکتے تو انہوں نے کہا کہ اب تو ہمارے پاس ایک ہی علاج ہے۔اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو ہم تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔آخر حضرت نوح علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حضور جُھکے اور انہوں نے کہا کہ اے میرے رب ! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے۔اب تو ہی میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما۔اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھ۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کو سنا اور اس نے ایک بھری ہوئی کشتی کے ذریعہ انہیں اپنے دشمنوں کے شر سے بچا لیا۔اور جو باقی لوگ رہ گئے۔ان کو طوفان میں غرق کردیا۔اس واقعہ میں بھی خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی طاقت کا بڑ ابھاری نشان ہے۔مگر پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہ لائے۔لیکن ان کے ایمان نہ لانے کے باوجود تیرے رب کا عزیز اور رحیم ہونا ثابت ہوگیا۔نوح ؑاپنے دشمنوں پر غالب آگیا اور نوح ؑ کے حقیر سمجھے جانے والے ساتھی دنیا کے سردار بن گئے۔اس جگہ نوح ؑ کی کشتی کے متعلق اَلمَشْحُوْن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنے بھری ہوئی کشتی کے ہیں مگر ظاہر ہے کہ اگر کشتی پہلے ہی بھری ہوئی ہوتو اورلوگ اس میںسوار نہیں ہوسکتے۔پھر بھری ہوئی کشتی میں نوح ؑ کے ساتھی کس طرح بیٹھ سکتے تھے ؟درحقیقت عربی زبان میں بعض دفعہ کسی چیز کو اس حالت کے مطابق نام دے دیتے ہیں جو اس پر بعد میں وارد ہونے والی ہو۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ مَنْ قَتَلَ قَتِیْلًا فَلَہٗ سَلْبُہٗ (ابو داؤد کتاب الجھاد باب فی السلب یعطی القاتل )یعنی جو شخص جہاد میں کسی مقتول کو قتل کردے اس کا مال و اسباب قتل کرنے والے کوہی ملے گا۔اس حدیث میںآپ نے دوسرے کے متعلق قَتِیل کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔حالانکہ وہ بھی زندہ ہوتا ہے۔اسی طرح چونکہ وہ کشتی حضرت نوح ؑ اور ان کی جماعت کے افراد سے بھرجانے والی تھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے کہہ دیاکہ ہم نے انہیں ایک بھری ہوئی کشتی کے ذریعہ نجات دی۔