تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 506

بچوں کو ڈرا سکتی ہیں۔وہ نعروں سے کمزور عورتوں کے دلو ں کو دہلا سکتی ہیں۔لیکن اگر وہ کوئی حقیقی کام کرسکتی ہیں تو صرف سوچ بچار سے اور صحیح نتائج کو اخذ کر کے۔حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو شعور کی طرف توجہ دلائی۔اور فرمایا کہ کاش اس قسم کے لغو اعتراضات کرنے کی بجائے تم حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور وہ مخفی حِسّ جو انسان کوا س کے اندرونی قویٰ کا علم دیتی ہے اور جس کے نتیجہ میں فطرتِ صحیحہ بید ار ہوتی ہے اس سے کام لیتے ہوئے تم دوسروں پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنے نفس پرغور کرتے کہ اس میں کیا کیا خامیاں ہیں اور بُرے بھلے کی تمیز کرنے کی طاقت پیدا کرتے۔قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَؕ۰۰۱۱۷ انہوں (یعنی کافروں) نے کہا۔اے نوح ؑ ! اگر تو باز نہ آیا تو تُو سنگساروں میںشامل ہوجائے گا (یعنی ہم قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِيْ كَذَّبُوْنِۚۖ۰۰۱۱۸فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَ بَيْنَهُمْ تجھے سنگسار کردیںگے )۔اس پر اُ س (یعنی نوح ؑ ) نے کہا۔اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلادیا ہے۔فَتْحًا وَّ نَجِّنِيْ وَ مَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۱۹فَاَنْجَيْنٰهُ وَ پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک قطعی فیصلہ کر اور مجھے اور میرے ساتھی مومنوں کو (دشمن کے ) شر سے مَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ۰۰۱۲۰ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ بچالے۔پس ہم نے اس کو اور جو اس کےساتھ ایمان لائے تھے ایک بھری ہوئی کشتی کے ذریعہ (شر سے)بچالیا۔الْبٰقِيْنَؕ۰۰۱۲۱اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ پھر اس کے بعد جو باقی لوگ تھے ان کو غرق کردیا۔اس میں ایک بہت بڑا نشان تھا مگر ان (یعنی کافروں) مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۲۲وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۲۳ میں سے اکثر ایمان لانے پر آمادہ نہیں تھے۔اورتیر ا رب ہی غالب (اور) باربار کرم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْمَرْجُوْمِیْنَ۔اَلْمَرْجُوْمِیْنَ اَلْمَرْجُوْمُ سے جمع کا صیغہ ہے۔اور رَجَمَ سے اسم