تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 505

خیال ہے کہ زمین گول ہے توا س نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر زمین گول ہے تو میں سپین سے چلو ں گا اور ہندوستا ن پہنچ جائوں گا۔چنانچہ اس نے پہلے بادشاہ اور پھر ملکہ کو تحریک کی کہ وہ اس کی امداد کریں۔اور آخر وہ ہندوستان تو نہ پہنچا لیکن ہندوستان سے ایک زیادہ طاقتور ملک امریکہ اُسے مل گیا (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Columbus Christopher)۔یہ نتیجہ کس بات کا تھا ؟ اس بات کا کہ مسلمانوں کو سوچنے اورغور کرنے کی عادت تھی۔انہوں نے پہلے سوچاکہ چاند گرہن کیوں لگتا ہے اور پھر انہوں نے سوچ کر یہ نتیجہ نکالا کہ چاند گرہن اس لئے لگتاہے کہ سورج اور چاند کے درمیان زمین آجاتی ہے۔پھر انہوں نے سوچا کہ گرہن کے وقت چاند پر گول نشان کیوں ہوتاہے ؟اس کا جواب ان کے دماغ نے یہ دیا کہ یہ گول نشان زمین کا ہے۔اور یہ گول نشان ثابت کرتاہے کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے اور جب مسلمان علماء نے کہا کہ یہ زمین گول ہے۔تو کولمبسؔ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ جب میں سپین سے چلوںگا تو ساری دنیا کے گر دچکر لگالوں گا۔کیونکہ گول چیز کے گرد چکر لگایا جاسکتا ہے۔چپٹی ہوتو کنارہ پر آکر قدم رک جاتاہے۔غرض چھوٹی چھوٹی چیزو ں پر غور کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک نیا ملک دریافت ہوگیا۔اتنا بڑ املک کہ آج ساری دنیا امن کےلئے اس کی طرف دیکھ رہی ہے آج ساری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ ہماری حفاظت کا ذریعہ ہی یہی ہے کہ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی مدد ہمارے ساتھ ہو۔یہ عظیم الشان نتیجہ آخر کس طرح نکلا؟ اسی طرح کہ پہلے مسلمانوں نے چاند گرہن پر غور کیا پھر چاند گرہن سے یہ نتیجہ نکالا کہ زمین گول ہے اور کولمبسؔ نے زمین کے گول ہونے سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر وہ گول ہے تو میں ساری دنیا کے گرد چکر لگا لوں گا۔چنانچہ وہ چلا اور اس نے ایک نئی زمین دریافت کرلی جو اب اتنا بڑ املک بن گیا ہے کہ ساری دنیا کی راہنمائی کررہا ہے اگر مسلمان چاند کودیکھتے رہتے جس طرح پہلے دیکھا کرتے تھے۔اگر مسلمان اس بات پر غور نہ کرتے کہ اس پر گرہن کے وقت گول دائرہ کیوں بن جاتا ہے۔اگر کولمبسؔ یہ نہ سوچتا کہ زمین کے گول ہونے سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ ساری دنیا کا چکر لگایا جاسکتا ہے تو نہ امریکہ دریافت ہوتا۔نہ موٹرکاریں ہوتیں نہ ہوائی جہاز نکلتے نہ بجلی ایجاد ہوتی نہ اتنی عظیم الشان طاقت دنیا پر رونما ہوتی کہ جس کے پیچھے آج انگریز اور فرانس بھی چلنے پر مجبورہیں۔اسی طرح موجودہ زمانہ میں جتنی ایجادات ہیں وہ ساری کی ساری بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں پر غور کرنے کا نتیجہ ہیں۔ایڈیسن جس نے فونو گراف اوربجلی وغیرہ کئی چیزیں ایجاد کی ہیں میں نے اس کی سوانح عمری پڑھی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میں نے جس قدر ایجاد یں کی ہیں یہ سب کی سب بعض چھوٹے چھوٹے مسائل پر غور کرنے کا نتیجہ ہیں۔پس سوچنا اور غور کرنا قومی ترقی کیلئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔جو قو میں بلا سوچے سمجھے صرف نعرے لگانا جانتی ہیں وہ کوئی کام نہیں کرسکتیں۔وہ نعروں سے اس وقت کی فضا کو مشوّش کرسکتی ہیں۔وہ نعروں سے کمزور