تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 504

نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ میری عمر ۱۹سال ہے۔بلکہ کہا۔جناب والا!جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ ؔبن زیدؓ کو شام کی فوج کا افسر بناکر بھیجا تھا۔جس میں ابوبکرؓاور عمرؓجیسے انسان بھی شامل تھے تو جو عمر اس وقت اسامہ کی تھی اس سے ایک سال میں بڑاہوں۔جب اسامہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی فوج کا افسر بنا کر بھیجا ہے اس وقت ان کی عمر ۱۸سال کی تھی۔یہ جواب سن کرانہوں نے فیصلہ کرلیا۔کہ جب تک یہ شخص یہاں رہے اس وقت تک کوئی شرارت نہیں کرنی۔چنانچہ انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک قضاکی۔مگر پھر کسی نے ان کے تبادلہ کی درخواست نہیں کی۔توانسان کو ہمیشہ سوچنے اور صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو اپنے مقام سے گر جاتا ہے۔اب کُجا تو یہ حالت تھی کہ مسلمان ہر علم میں ترقی کررہے تھے اور کُجا یہ حالت ہے کہ جب انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ جو ہوناتھا ہوچکا اب علوم میں ترقی نہیں ہوسکتی تو وہ گر گئے۔اورایسے گرے کہ اب دنیا کی علمی دوڑ میں غیر مذاہب کے لوگ تو آگے ہیں اور مسلمان پیچھے ہیں۔اس کے مقابل میں یورپ نے کہا کہ اگر پہلوں نے ترقی کی تھی تو ہم کیوں ترقی نہیںکرسکتے۔ہم بھی سوچیں گے اور غورکریں گے اور اس طرح اپنی ترقی کے لئے نئے سے نئے راستے نکالیں گے چنانچہ ان کے سوچنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے کئی قسم کی ایجادیں کرلیں۔مثلاً وہ ریل جس پر تمام دنیا سفر کرتی ہے۔یہ کس چیز کا نتیجہ ہے۔یہ سوچنے اور غورکرنے کا ہی نتیجہ ہے ریل کے موجد نے دیکھا کہ ہنڈیا کو جب چولہے پر چڑھا یا جاتا ہے تو اس کاڈھکنا سٹیم کے زور سے اُچھلتا ہے اس پر غور کرکے اس کا دماغ اس طرف چلا گیا کہ سٹیم میں بہت بڑی طاقت ہے۔اگر سٹیم کو بند رکھا جائے اور ہنڈیا کے نیچے پہئیے لگا دیئے جائیں تو وہ دوڑنے لگ جائے گی۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ہنڈیا کے نیچے پہئیے لگائے سٹیم کو بند کیا اور وہ دوڑنے لگ گئی۔اسی پر قیا س کرکے اس نے ریل ایجادکرلی۔اب کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے ہنڈیا میں سے کبھی سٹیم نکلتے نہیں دیکھی گھروں میں روزانہ عورتیں کھانا پکاتی ہیں اور مرد روزانہ دیکھتے ہیں کہ سٹیم کے زور سے ہنڈیا کا ڈھکنا اچھل رہا ہے۔مگر ان کا ذہن کبھی اس طر ف مائل نہیں ہوتا کہ وہ اس پر غور کریں اور سوچیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ریل کے موجد نے اسے دیکھا اور اس نےسوچ کر ایک ایسی چیز بنا لی جس سے آج ساری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے۔اسی طرح اور کئی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جن سے کچھ کا کچھ نتیجہ نکل آتا ہے کولمبسؔ کو دیکھو۔اس نے مسلمانوں سے یہ سنا ہوا تھا کہ زمین گول ہے۔حالانکہ علمِ ہیئت کی ترقی اس وقت اتنی نہیں ہوئی تھی۔دراصل مسلمانوں نے چاند گرھن پر غور کرکے یہ نتیجہ نکال لیا تھا کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے۔کیونکہ چاند گرہن کے وقت اس پر ایک گو ل نشان ہوتا ہے۔اس نشان سے مسلمانوں نے یہ نتیجہ اخذکیا کہ زمین گول ہے۔جب کولمبسؔ نے یہ سُنا کہ مسلمانوں کے علماء کا یہ