تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 500

ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ مکھّی بھی اگر کھانا اُٹھاکر لے جائے تو یہ بُت اس سے چھین نہیں سکتے(الحج:۷۴) جب یہ اس قدر کمزور اوربے بس ہیں تو انہیں خدائی کا مقام دینا کون سی عقلمند ی ہے۔اب یہ ظاہر ہے کہ جو شخص دلیل سے کسی بات کو تسلیم کرے گا اس کا مقابلہ وہ شخص نہیں کرسکتا جو بلادلیل اور بلا سوچے سمجھے ماننے کا عادی ہو بے دلیل ماننے والا بہر حال کسی نہ کسی جگہ جا کر رہ جاتا ہے اسی لئے قرآن کریم میں بار بار آتا ہے کہ تفقّہ ؔسے کام لو عقل سے کام لو۔فکر سے کام لو۔شعورؔسے کام لو۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بھی جب کسی پر خوش ہوتے تو اس کے لئے یہی دعا فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو سوچنے کی عادت ڈالے۔حضرت ابنِ عباسؓکہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے اندر تشریف لے گئے۔میں لوٹا بھر کر باہر کھڑا رہا۔جب آپ اندر سے نکلے۔تو میں نے آگے بڑھ کر پانی پیش کیا اور وضو کرایا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم میرے اس فعل سے بہت خوش ہوئے اور آپؐنے فرمایا اَلَّھُمَّ فَقِّھْہُ فِیْ ا لدِّیْنِ(بخاری کتاب الوضوء باب وضع الماء عند الخلاء)۔اے اللہ!تو اسے دین کو سوچنے اور مسائل میں غور کرنے کی توفیق بخش۔اور یہی اصل کام ہو تا ہے کہ انسان سوچے اور پھر کسی نتیجہ پر پہنچے۔یونہی کسی بات کے پیچھے چل پڑنا اور غورو فکر سے کام نہ لیناانسان کو اس کے اعلیٰ مقام سے گرادیتا ہے۔اسلام کی اسی تعلیم کا نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان جہاں بھی جاتے لوگ حیران رہ جاتے کہ ان لوگوں کا بچہ بچہ علوم جانتا ہے اور بڑی بادلائل گفتگو کرتا ہے۔اورپھر یہ سوچنے کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کے ایمانوں میں تزلزل واقع نہیں ہوتا تھا۔کیونکہ وہ جو کچھ مانتے تھے۔سمجھ کر مانتے تھے سوچ کرمانتے تھے اور ساری تشریحات کو مدِ نظر رکھ کر مانتے تھے اور پھر یہی وجہ تھی کہ مسلمان جان دیتا تھا تو لوگ حیران رہ جاتے تھے کہ یہ کس دلیری اور جرأت کے ساتھ اپنی جان دے رہے ہیں۔ایک صحابیؓ کہتے ہیں کہ میرے ایمان لانے کی وجہ ہی یہی ہوئی کہ میں نے ایک مسلمان کو اس جرأت کے ساتھ جان دیتے دیکھا کہ میں حیران رہ گیا۔واقعہ یہ ہوا کہ دشمنوں نے مسلمانوں کی ایک جماعت دھوکا سے گھیر لی۔اورپھر مزید دھوکا انہوں نے یہ دیا کہ انہوں نے ان گھرے ہوئے مسلمانوں سے یہ کہا کہ اگر تم پہاڑی سے نیچے اتر آئو تو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔جب وہ نیچے آئے تو انہوں نے حملہ کرکے ان میں سے اکثر کو شہید کردیا۔وہ شخص جو اس واقعہ کو دیکھنے کے بعد ایمان لایا وہ کہتاہے کہ میں کسی اور قبیلہ کا تھا۔لیکن ہم سمجھتے تھے کہ یہ مسلمان لوگ بے دین ہیںاورعربوں کے خلاف جذبات رکھتے ہیں۔اور چونکہ ہمارے کانوں میں باربار یہ باتیں ڈالی جاتی تھیں کہ مسلمان عربوں کے دشمن ہیں۔اس لئے میں بھی ان لوگوں کے ساتھ آکر شامل ہوگیا۔اور مسلمانوں کا میں نے مقابلہ کیا اس وقت میں نے دیکھا کہ ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے ایک مسلمان کے سینہ میں نیزہ مارا۔جوں ہی وہ