تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 499
لیکن فرض کرو۔ایک شخص غور کرکے ایک نتیجہ پر پہنچا ہو تو خواہ وہ غلط ہی ہو۔لیکن چونکہ اس نے صحیح جدو جہد سے کام لیا ہو گا اللہ تعالیٰ کے حضور وہ ثواب کا مستحق ہوگا۔کیونکہ اپنی طرف سے اس نے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی تھی۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو سوچ کر کوئی فیصلہ کرتا ہے تو خواہ وہ غلط فیصلہ ہی دے تب بھی وہ ثواب کا مستحق ہوگا(بخاری کتاب الاعتصام، باب اجرالحاکم اذا اجتھد فاصاب اوأ خطا)۔بیشک فیصلہ غلط ہو گا۔لیکن اس نے سوچ کر اپنی طرف سے پورا زور لگانے کے بعد دیا ہوگا۔اس لئے خواہ وہ فیصلہ کرنے میں غلطی کرجائے۔اللہ تعالیٰ اس کے متعلق یہی کہے گا کہ اس نے اپنے فرض کو ادا کردیا۔اس لئے وہ انعام کا مستحق ہو گا سزا کا نہیں۔اسی طرح رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جس پر حجّت تمام نہیں ہوئی وہ دوزخ میں نہیں ڈالاجائے گا۔کیونکہ اس کے لئے موقع ہی نہیں تھا کہ وہ سوچتا اور غور کرتا۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ دیوانہ شخص دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا کیونکہ وہ معذور تھا اور سوچ نہیں سکتا تھا۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ بچے جو چھوٹی عمر میں مر جائیں گے یا بڈھا جس کی عقل ماری گئی یا پہاڑوں پر رہنے والا شخص جس تک میری آواز نہیں پہنچی وہ دوزخ میں نہیں ڈالے جائیں گےاس لئے کہ ان کے لئے سوچنے کاموقعہ ہی نہیں تھا۔پس سزا کا مستحق بھی وہی ہوتا ہے جسے سوچنے کا موقع ملے اور پھر وہ نہ سوچے اور انعام کا مستحق بھی وہی ہوتا ہےجوسوچ سمجھ کر کسی سچائی کو قبول کرے۔رسمی اور آبائی مذ ہب یا رسمی اور آبائی طریقہ خدا تعالیٰ کو خوش کر نے کا نہیں ہوسکتا چنانچہ ظاہری طور پر بھی ہمیں یہی قانون نظر آتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو۔آپ نے اپنی قو م کو یہی نصیحت کی کہ ہر بات پر غور کرنے کی عادت ڈالو۔اور صحابہ ؓکو بھی آپ یہی نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ سوچو اورسمجھو اور پھر کسی بات کو مانو۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علمی طور پر صحابہؓ کو اتنی فضیلت حاصل ہوگئی کہ اُن کا ان پڑھ بھی لوگوں کے سامنے اس طرح دلائل دیتا کہ مخالفوں کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا تھا کہ وہ ڈنڈے کے زور سے اپنی بات منوانے کی کوشش کریںکیونکہ وہ جانتے تھے کہ دلائل کے میدان میں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔مثلاً شرک کی تعلیم ہے۔ایک مکہ کا رہنے والا مشرک شرک کی یہ دلیل دیتا تھا کہ میرے ماں باپ نے ایسا کیا ہے۔کیا وہ جھوٹے تھے۔کیا ان میں عقل نہیں تھی۔کیا ان میں تمیز نہیں تھی۔سیدھی بات ہے کہ جب وہ کہیں گے کہ یہ لوگ ہمارے ماں باپ کو جاہل بتاتے ہیں تو نوجوانو ںکو جوش آجائے گااور وہ کہیں گے۔اچھایہ ہمارے ماں باپ کو جھوٹا کہتے ہیں اوراس طرح وہ مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جائیں گے لیکن رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی تھی کہ تم غور کرکے دیکھ لو۔بتوںمیں کوئی بھی طاقت اور قوت ہے جب ان میں کوئی بھی طاقت نہیں توان کی پرستش کس لئے کی جاتی