تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 495

ہوں۔آخر ان کا حساب تو خدا تعالیٰ کے ذمہ ہے۔میرے ذمہ تونہیں۔کاش تم عقل سے کام لو۔اور جس کو خدا مومن بنا دے۔اس کی تحقیر نہ کرو۔اور اگر تم تحقیر کروبھی تو میں بہر حال اسے دھتکار نہیں سکتا کیونکہ اس کو خدا نے میرے حوالہ کیا ہے۔میرا کام تو یہ ہے کہ میں لوگوں کو بری باتوں سے روکوں۔اس کے بعد جب خدا تعالیٰ کسی کو ہدایت دے دے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بری باتوں سے رک گیا ہے اور نہایت عزت والا انسان بن گیا ہے۔اس کے بعد وہی معززہے تم لوگ معزز نہیں۔اسلامی تاریخ میں اس کے متعلق ایک بڑا اچھا واقعہ آتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ حج کے لئے تشریف لے گئے تو حج کے بعدعید کے دن لوگ آپ کو ملنے کے لئے آئے۔شروع میں مکہ کے رؤساء اور رئیسوں کے بیٹے آئے۔اس کے بعد کچھ غلام آ ئے جو ابتدائے زمانہ میںاسلام لائے تھے۔اُن کے آنے پر حضرت عمر ؓنے رؤساء کو پرے سرکنے کے لئے کہا اور اپنے پاس غلاموں کو بٹھا لیا۔اس کے بعد کچھ اور نومسلم غلام آئے۔حضرت عمرؓ نے پھران کو اپنے پاس بٹھا لیا۔اور رؤساء کو پَرے سرکنے کا اشارہ کیا۔اسی طرح متواتر ہوتا رہا۔آخر شر مندہ ہو کر رؤساء کے لڑکے اُٹھ کھڑے ہوئے اور باہر جاکر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ دیکھ لیا آج تمہاری کیسی بے عزتی ہوئی ہے۔اس پر ان میں ایک ہوشیار لڑکا بولا کہ اس میں قصور کس کا ہے۔یہ غلام جن کو تم ذلیل سمجھتے ہو سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے۔اور انہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی ترقی کے لئے خرچ کر دیں جبکہ تمہارے باپ دادے اسلامؔاور محمدؔرسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کررہے تھے۔اب اسلام کی حکومت آئی ہے تو عزت انہی کو ملے گی۔ہم کو نہیں ملے گی۔باقی ساتھیوں نے کہا۔تو پھر اس کا علاج کیا ہے۔اس ذہین لڑکے نے کہا۔چلو اس کا علاج حضرت عمر ؓسے ہی پوچھیں چنانچہ وہ پھرجمع ہو کر حضرت عمرؓکے پاس گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر بات سمجھ لی۔اور کہا۔اے نوجوانو۔مجھے معلوم ہے کہ تمہاری مکّہ میں کیا حیثیت ہے۔مگر میں مجبور تھا۔یہ لوگ جن کو میں نے آگے بٹھایا۔محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم بھی ان کو آگے بٹھایا کرتے تھے۔اب میں ان کے درجہ میں فرق کس طرح کرسکتا تھا۔ان نوجوانوں نے کہا۔پھر اس کا کوئی علاج بھی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو ان کے خاندانوں کی عزت کو جانتے تھے اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ شمال کی طرف اونچا کردیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اب شام میں عیسائیوں سے جنگ ہورہی ہے۔وہاں چلے جاؤاور اپنے باپ دادا کے گناہوں کا کفارہ اداکرو۔چنانچہ وہ نوجوان خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے اور اسی وقت اونٹوں یا گھوڑوں پر سوار ہوکر شام چلے گئے اور اسلامی لشکر میں مل گئے اور وہیں کفار سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ان میں سے کوئی بھی لوٹ کر نہ آیا۔