تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 482

مجددین کے متعلق لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ایک ہی مجدد ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوتا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ملک اور ہر علاقہ میں اللہ تعالیٰ مجدّد پیدا کیاکرتا ہے مگر لوگ قومی یا ملکی لحاظ سے اپنی قوم اور اپنے ملک کے مجدّد کو ہی ساری دنیا کا مجدّد سمجھ لیتے ہیں۔حالانکہ جب اسلام ساری دنیا کے لئے ہے تو ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں اور مختلف ملکو ں میں مختلف مجدّدین کھڑے ہوں۔حضرت سیّد احمد صاحب بریلوی ؒ بھی بیشک مجدّد تھے۔مگر وہ ساری دنیا کے لئے نہیں تھے۔بلکہ صرف ہندوستان کے مجدّد تھے۔اگر کہا جائے کہ وہ ساری دنیا کے مجدّد تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے عرب کو کیا ہدایت دی انہوں نے مصر کو کیا ہدایت دی انہوں نے ایران کو کیا ہدایت دی ،انہوں نے افغانستان کو کیا ہدایت دی۔ان ملکوں کی ہدایت کےلئے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا لیکن اگر ان ممالک کی تاریخ دیکھی جائے تو ان میں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو صاحبِ وحی اور صاحبِ الہام تھے اور جنہوں نے اپنے ملک کی راہنمائی کا فرض سرانجام دیا پس وہ بھی اپنی اپنی جگہ مجدّد تھے اور یہ بھی اپنی جگہ مجدّد تھے۔فرق صرف یہ ہے کہ کوئی بڑا مجدّد ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا۔ہندوستا ن میں آنے والے مجدّدین کی اہمیت اس لئے ہے کہ وہ اس ملک میں آئے جہاں مسیح موعود نے آنا تھا۔اور اس طرح ان کا وجود حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے بطور ارہاص تھا۔ورنہ ہمار ا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ صرف یہی مجدد ہیں باقی دنیا مجدّدین سے خالی رہی ہے ہر شخص جو الہام کے ساتھ تجدیدِ دین کا کام کرتا ہے وہ روحانی مجدّد ہے۔ہرشخص جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے تجدید کا کوئی کام کرتا ہے وہ مجدّد ہے۔چاہے وہ روحانی مجدّد نہ ہو۔جیسے میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اورنگ زیبؒ بھی مجدّد تھا۔حالانکہ اورنگزیبؒ کو خود الہام کا دعویٰ نہیں تھا۔تو نبی کے فیوضِ روحانی کا زمانہ نبی کی زندگی میں ہی شامل ہوتا ہے اور اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو فترت کا زمانہ بہت قلیل رہ جاتاہے۔گو بعض ممالک ایسے بھی ہیں جن پر فترت کا زمانہ کسی قدر لمبا نظر آتا ہے مگر ان ممالک کے ارد گرد بھی روحانی فیوض کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر جاری تھا۔جیسے عرب کا ملک ہے۔اس پر فترت کا ایک لمبا دور آیا۔گو بعض لوگ کہتے ہیں۔اس عرصہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے بعض انبیاء ان میں مبعوث ہوئے۔چنانچہ سنان بن خالد کے متعلق کہا جاتاہے کہ وہ بھی نبی تھے (البدایۃ و النھایۃ لدمشقی جزء الثانی فصل تفویض قصی امر الو ظائف لابنہ عبدالدار ،ذکر جماعۃ مشھورین فی الجاھلیۃوالسیرۃ الحلبیۃ باب یذکر فیہ ما یتعلق بالوفود)اور اگر اس کو تسلیم کیا جائے تو اس طرح عرب پر بھی زمانہء فترت زیادہ عرصہ تک نہیں رہتا۔لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ ملک عرب پر فترت کا دور لمبے عرصہ تک رہا تو بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ اہلِ عرب کے دائیں اور بائیں ایسے لوگ مبعوث ہوتے رہے تھے جو خدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلاتے اور نشانات کے ذریعہ اس کی ہستی کا ثبوت پیش کرتے۔آخر یہ کوئی ضروری نہیں تھا کہ اہلِ عرب پر کسی ایسے نبی کے ذریعہ ہی اتمام حجت کی جاتی جو ان میں سے ہوتا۔جب دائود ؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہاتھا جب سلیمانؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہاتھا۔جب عیسیٰ ؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہاتھاجب یحییٰ ؑ کے ذریعہ خدا ان پر ظاہر ہورہا تھا۔جب ذوالقرنین کے ذریعہ جس سے مراد خورس شاہ ایران ہے ان پر خدا ظاہر ہورہا تھا اوریہ وہ لوگ تھے جنہوں نے الہام کا دعویٰ کیا۔اور یہ وہ لوگ تھے جو اہلِ عرب کے دائیں بائیں مبعوث ہوئے تو اس کے بعد اگر عرب میں کچھ وقفہ بھی ہوا تب بھی وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہمیں پتہ نہیں شرک بری چیزہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ باربار ان انبیا ء کے ذریعہ پیش کیا جا چکا تھا۔اوریہ انبیا ء وہ تھے جو اہلِ عرب کے دائیں بائیں مبعوث ہوئے اور جن کے حالات اور جن کی تعلیم سے وہ لوگ بے خبر نہیں ہوسکتے تھے۔اگر اس طرح ہم دیکھیں تو فترت کا زمانہ بہت ہی قلیل رہ جاتا ہے جب خدا کا نور کہیں نظر نہ آتا ہو۔اہلِ عرب پر بیشک فترت کا کچھ لمبا زمانہ نظر آتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی برکت کی وجہ سے اوردوسری طرف اہل عرب پر اس رحم کی وجہ سے کہ انہوں نے فترت کا ایک لمبا دور برداشت کیا تھا اپنے خاتم النبیین کو عربوں میں مبعوث فرما دیا اور اس طرح اس کمی کا ازالہ ہوگیا۔بہرحال لوگوں کے خلافِ توحید اعمال اس وجہ سے معاف نہیںہوسکتے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ان پر حجت قائم کرنے کے لئے مبعوث نہیں ہوا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اس عذر کو ہمیشہ توڑتا رہتاہے اور وہ انبیا ء کے ذریعہ لوگوں پر حجت قائم کردیتا ہے خواہ یہ حجت انبیا ء کی جسمانی زندگی میں ہو خواہ ان کی فیضانی زندگی میں ہو۔لیکن وہ لوگ جو نہ تو انبیا ء کی جسمانی زندگی کے زمانہ میں موجود ہوتے ہیں اور نہ ان کی فیضانی زندگی میں موجو د ہوتے ہیں ان کا معاملہ ایک جداگانہ نوعیت کا حامل ہوتا ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوبارہ اپنا رسول بھیجے گا۔اور پھر اس کی اطاعت کرنے والوں یا اس کا انکار کرنے والوں کو اپنے اپنے عمل کے مطابق جزاد ی جائے گی(تفسیر رُوح المعانی جلد ۴صفحہ ۴۹۶)۔اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نبی کے زمانہ میں احکامِ الٰہی کی جو اہمیت ہوتی ہے وہ فترت کے زمانہ میں نہیں ہوتی۔جب کسی نبی کی فیضانی زندگی بھی ختم ہو چکی ہو یا اس فیضانی زندگی میں کوئی وقفہ پڑ چکا ہو جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ فیضانی موجودتھی مگر چونکہ کوئی ایسا بندہ موجو دنہیں تھا جو بنی نوع انسان پر آپؐ کی روحانیت کا پر تو ڈالتا اور آپؐ کا نور اپنے آئینہء قلب میں جذب کر کے اس کی شعاعوں سے دوسروں کو منور کرتا اس لئے امت محمدیہ پر بھی فترت کا زمانہ آگیا۔مگر وہ فترت کا زمانہ بہت ہی تھوڑا تھا۔آخر حضرت سید احمد صاحب شہید بریلوی ؒ کے وفات پاتے ہی ان کے تمام شاگرد تو اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوگئے تھے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ ان کی وفات کے ساتھ ہی فتر ت کا زمانہ شروع ہوگیا تھا۔آپ کی شہادت ۶؍مئی ۱۸۳۱؁ء کو ہوئی ہے(سید احمد شہید از غلام رسول مہر صفحہ ۴۱۴ زیر عنوان کیفیت شہادت) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ۱۸۶۴؁ء کے قریب الہامات شروع ہوگئے تھے اور ۱۸۷۲ء میں آپ ؑنے اسلام کی صداقت کے متعلق مضامین وغیرہ لکھنے شروع کردیئے تھے۔(سیرت حضرت مسیح موعود ؑ از شیخ یعقوب علی عرفانی ؓ صفحہ ۷۱زیر عنوان اخبار پڑھنے کی عادت) گویا ابھی ایک انسانی عمر بھی نہیں گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور شخص کو لوگوں کی اصلاح کے لئے کھڑا کردیا یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے کا ایک نہایت ہی واضح اور کھلا ثبوت ہے اور بتاتا ہے کہ اسلام میں فترت کا زمانہ نہایت قلیل ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو صرف نام کے طورپر ہوتا ہے ورنہ ادھر ایک زمانہ ختم ہوتا ہے اور اُدھر تھوڑے سے وقفہ کے بعد ایک اور دور شروع ہوجاتا ہے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان دنیا میں ہمیشہ جاری رہتا ہے لیکن جن انبیا ء کی فیضانی زندگی ختم ہوجائے اور ان کے بعد بھی فترت کا دور لمبا ہوجائے۔اس دور میں جو لوگ پیدا ہوتے ہیں ان کے متعلق شرعی احکام بالکل اور رنگ اختیا ر کرلیتے ہیں اور ان کے لئے مغفرت کی دعا بالکل جائز ہوتی ہے۔زیر تفسیر آیت میں جو مثال دی گئی ہے وہ ایک ایسے شخص کی ہے جو نبوت کے زمانہ میں تھا یعنی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چچا تھا اور اس زمانہ میں زندہ موجود تھا۔جب حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے توحید کی تعلیم لوگوں کے سامنے پیش کی۔پس ایسا انسان جس کے سامنے ایک نبی اپنی تعلیم پیش کرتا ہے اور وہ پھر بھی شرک پر اصرار کرتا ہے بلکہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو بھی توحید سے پھرانے کی کو شش کرتا ہے اس کے متعلق یقیناً اور احکام ہوںگے۔اور زمانہ فترت سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر اور احکام نافذ ہوںگے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے اپنے چچا کے متعلق تو مغفرت کی دعا واپس لے لی اور اس سے اپنی بیزاری کا اظہار کردیا مگر اپنے والدین کے متعلق انہوں نے بڑھاپے میں بھی دعا کی کیونکہ وہ زمانہ ء فترت میں انتقال کر چکے تھے۔اور ان کے متعلق احکام ایک جداگانہ نوعیت کے حامل تھے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے گذشتہ زمانہ میں جو مسلمان حیاتِ مسیح کے قائل رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ان کو بزرگ اور صالح قرار دیا ہے لیکن موجودہ زمانہ میں اس عقیدہ کو آپؑ نے عیسائیت کی مضبوطی کا موجب قرار دیا ہے۔کیونکہ پہلے لوگوں کو علم نہیں تھاکہ یہ عقیدہ اسلام کے لئے کیسا خطرناک ہے مگر اب یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو چکی ہے۔پس چونکہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے والدین زمانہ ء فترت میں انتقال کر چکے تھے آپ نے ان کی مغفرت کی دعا کی۔اور چونکہ ان کا چچا توحید کی تعلیم سننے کے باوجود اپنے شرک پر مصر رہا آپ نے اس سے اپنی بیزاری کا اظہار کردیا۔حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے اَب کا نام قرآن کریم میں اٰزَر بتایا گیا ہے (الانعام :۷۵)لیکن بائیبل کہتی ہے کہ اس کا نام تارا تھا (پیدائش باب ۱۱آیت ۲۷)عیسائی مستشرقین جو بائیبل کی ہر بات کو وحئی آسمانی سے کم نہیں سمجھتے