تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 44

پھر تعجب ہے کہ کفار نے یہ اعتراض تو کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سابق انبیاء اور اُن کی قوموں کے حالات عیسائی غلاموں سے لکھوا لیتے ہیں اور پھر وہ واقعات صبح شام اُن کے سامنے پڑھے جاتے ہیں تاکہ یا د رہیں مگر وہ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ اس زمانہ میں تورات اور انجیل کا کوئی عربی نسخہ بھی موجود تھا جس کی مدد سے یہ قرآن تیار کیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں بائیبل کے عربی ترجمہ کی طرف ابھی عیسائیوں کو کوئی توجہ ہی پیدا نہیں ہو ئی تھی۔یہاں تک کہ مدینہ اور اس کے اردگر د جو یہودی قبائل آباد تھے اُن کے پاس بھی بائیبل کا کوئی عربی نسخہ نہیں تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کبھی کسی حوالہ کی ضرورت محسوس ہوتی تو آپ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے دریافت فرمایا کرتے تھے جو عبرانی زبان جانتے تھے(صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ آل عمران باب قل فأتوا بالتوراۃ۔۔۔) اور وہ عبرانی تورات کو دیکھ کر آپ کو جواب دیتے۔یہ حقیقت ایسی روشن ہے کہ خود مسیحی مصنفوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے۔چنانچہ ایک مشہور مسیحی مصنّف ڈاکٹر الیگزینڈر لکھتے ہیں کہ بائیبل کا پُرانے سے پُرانا عربی ترجمہ آٹھویں صدی سے اوپر نہیں جاتا (حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھٹی صدی میں پیدا ہوئے تھے ) THE TEXT AND CANNON OF THE NEW TESTMENT by Dr۔ALEXANDER SOOTER page 74 & ENCYCLOPEDIA of RELIGION & ETHICS vol۔9 p 481 by JAMES HASTINGS پس جبکہ اس وقت تک تورات اور انجیل کا کوئی عربی ترجمہ ہی نہیں ہو اتھا تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ عیسائی غلام بائیبل سے پُرانے واقعات آپ کو سناتے تھے اور آپ انہیں یاد کر لیتے تھے۔یہ تو اس اعتراض کا وہ جواب ہے جو قرآن کریم نے ان آیات میں بیان فرمایا لیکن اس کے علاوہ اصولی طور پر بھی قرآن کریم نے اس سوال کا جواب دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ان کفار کا یہ خیال درست ہے کہ کئی لوگوں نے مل کر یہ کتاب بنالی ہے تو وہ ایسی ہی خوبیاں رکھنے والی کوئی اور کتا ب بنا کر دکھا دیں۔پھر دنیا پر خود بخود ظاہر ہو جائےگا کہ ان کا یہ دعویٰ درست ہے یا غلط کیونکہ جو کام چند آدمی مل کر کر سکتے ہیں ویسا ہی کام سو یا ہزار اور آدمی بھی مل کر کر سکتے ہیں۔لیکن اگر وہ اس کتاب کی کوئی مثل تیار نہ کر سکیں تو ثابت ہو جائےگا کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل میں اس جواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا ( بنی اسرائیل :۸۹)یعنی تو انہیں کہہ دے کہ اگر تمہارے چھوٹے بھی اور بڑے بھی اور عالم بھی اور جاہل بھی اور امیر بھی اور غریب بھی سب مل کر اس قرآن کی کوئی نظیر لانا چاہیں تو وہ اس کی نظیر کبھی تیار نہیں کر سکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہو جائیں۔اس