تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 441

ہوتا ہے۔اور تحصیلدار اس کے ماتحت ہوتاہے۔پس جب وہ دونوں ملاقات کے لئے گئے تو اتفاقاً انگریز افسر کے پاس ملاقات کا وقت تھوڑا تھا اس لئے بجائے اس کے کہ وہ دونوں کو الگ الگ بلاتا۔اس نے کہلا بھیجا کہ دونوں آجائو۔جب ای۔اے۔سی ڈالی کو اٹھانے لگا تو تحصیلدار نے آگے بڑھ کر ڈالی اٹھا لی۔اور کہا حضور ہمارے ہوتے ہوئے آپ یہ تکلیف کیوں کریں۔چنانچہ تحصیلدار نے ڈالی اٹھائی اور بڑے آرام سے اندر جاکر انگریز افسر کے سامنے رکھ دی اور یہ نہ کہا کہ یہ ڈالی ای۔اے۔سی نے پیش کی ہے۔وہ انگریز افسر اسی اثر کے ماتحت کہ ڈالی تحصیلدار نے پیش کی ہے ای۔اے۔سی کی طرف پیٹھ کر کے اور تحصیلدار کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا اور اس سے حالات پوچھنے لگا۔ای۔اے۔سی دل ہی دل میں کُڑھ رہا تھا۔لیکن وہ کیا کرسکتا تھا۔برابر دو گھنٹے تک انگریز افسر تحصیلدار سے باتیں کرتا رہا۔اور اس نے ای۔اے۔سی کو پوچھا تک نہیں۔ملاقات سے فارغ ہوکر جب باہر آئے تو ای۔اے۔سی نے غصہ نکالنا شروع کیا کہ تم نے کیوں یہ حرکت کی۔تحصیلدار نے کہا۔حضور یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ آپ میرے سامنے بوجھ اٹھاتے۔اب ڈالی تو ای۔اے۔سی لایا تھا۔لیکن چونکہ وہ ڈالی تحصیلدا رنے انگریز افسر کے آگے رکھی تھی اس لئے وہ اس پر مہربان ہوگیا۔یہی حال انسان کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ڈالی آتی ہے۔لیکن ماں باپ۔بیوی بچہ۔بہن یا بھائی وہ ڈالی اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ اصل ڈالی پیش کرنے والے وہی ہیں حالانکہ ان کے پیچھے خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔اسلام ؔ نے انسان کو یہ یاد دلانے کے لئے کہ حقیقی محسن خدا تعالیٰ ہی ہے یہ ترکیب رکھ دی کہ جب تم کھانا کھائو۔یا پانی پیو تو اس کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔اور کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کے یہ معنے ہیں کہ یہ کھانا تمہارے سامنے رکھا تو ماںنے ہے لیکن بھیجا خدا تعالیٰ نے ہے۔یا کھانا تمہارے سامنے رکھا تو بیوی نے ہے لیکن بھیجا خدا تعالیٰ نے ہے یا کھانا تمہارے سامنے رکھا تو تمہارےبھائی نے ہے لیکن بھیجا خدا تعالیٰ نے ہے۔اور جب انسان کو پتہ لگ جاتا ہے اور باربار یہ مضمون اس کے سامنے دہرایا جاتا ہے کہ درحقیقت یہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا خدا تعالیٰ ہی ہے۔وہی ہمیں کھانا دیتا ہے وہی ہمیں پانی دیتا ہے۔وہی ہمیں پہننے کو کپڑا مہیا کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی طرف دل مائل ہوجاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوجاتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ میں یہی نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اصل احسان خدا تعالیٰ کا ہے۔جس نے ہمیں کھانے پینے کو دیا۔اور جب وہی محسنِ حقیقی ہے۔تو انسان کی یہ کتنی بڑی نادانی ہے کہ وہ محسنِ حقیقی کو تو چھوڑ دیتا ہے اور ان لوگوں کے آگے جھکنا شروع کردیتا ہے جن کو اس نے صرف ایک درمیانی واسطہ بنایا ہے۔گویا وہ شاخ پر تو ہاتھ مارتا ہے او رتنے کو نظر انداز کر دیتا