تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 424
عَاکِفِیْنَ۔عَاکِفِیْنَ عَکَفَ سے اسم فاعل مذکر کاصیغہ عَاکِفٌ آتا ہے۔اور عَاکِفُوْنَ اورعَاکِفِیْنَ سے اسم جمع کا صیغہ ہے۔عَکَفَ کے معنے ہیں۔کسی کی عظمتِ شان کی وجہ سے اُس کی طرف متوجہ ہونا اور ا س کےساتھ رہنا (مفردات) پس عَاکِفٌ کے معنے ہوںگے۔کسی کی عظمتِ شان کی وجہ سے اُس کے پاس بیٹھنے والا اور اُس کے پاس رہنے والا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اب تو خدا تعالیٰ کے عزیزؔ اور رحیمؔ ہونے کے ثبوت میں ان کو ابراہیم ؑ کا واقعہ سناجس نے اپنی قوم کو توحید کی تعلیم دی اور بتوں کی پرستش سے اُسے روکا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک بُت پرست بلکہ بُت ساز گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور چلڈیا کے ایک شہر اُورکسدیم کے رہنے والے تھے۔ان کے خاندان کے لوگوں کا گزارہ ہی بتوں کے چڑھاووں اور بت فروشی پر تھا۔والد بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔اور چچا کی آغوش میں انہوں نے پرورش پائی تھی جس نے اُن کے ہوش سنبھالتے ہی اپنے بیٹوں کے ساتھ آپ کو بھی بت فروشی کے کام پرلگا دیا حقیقت سے نا آشنا چچا کو یہ معلوم نہ تھاکہ جس دل کو خالق کون و مکاں چُن چکا ہے اُس میں بتوں کےلئے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔پہلے ہی دن ایک امیر گاہک جو اپنی عمر کی انتہائی منزلیں طے کر رہاتھا اور تھا بھی مالدار بت خریدنے کےلئے آیا۔بت فروش چچا کے بیٹے خوش ہوئے کہ آج اچھی قیمت پر سودا ہوگا۔بوڑھے امیر نے ایک اچھا سا بت چُنا اور قیمت دینے ہی لگا تھا کہ اُس بچہ کی توجہ اس گاہک کی طرف ہوئی۔اور اُس نے سوال کیا۔میاں بوڑھے۔تم قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہو۔تم اِس چیز کو کیا کرو گے ؟ اُس نے جواب دیا کہ گھر لے جائوں گا اور ایک صاف اورمطہر جگہ میں رکھ کر اُس کی عبادت کروں گا۔یہ سعید بچہ اس خیال پر اپنے جذبات کو نہ روک سکا۔اور پوچھا۔تمہاری عمر کیا ہوگی۔اُس نے اپنی عمر بتائی اوراس بچہ نے نہایت حقارت آمیز ہنسی ہنس کر کہا کہ تم اتنے بڑے ہو اور یہ بت تو ابھی چند دن ہوئے میرے چچا نے بنوایا ہے کیا تمہیں اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے شرم نہ آئے گی۔نہ معلوم اس بوڑھے کے دل پر توحید کی کوئی چنگاری گری یا نہ گری لیکن اُس وقت اُس بت کا خریدنا اُس کےلئے مشکل ہوگیا۔اور وہ بت وہیں پھینک کر واپس چلا گیا۔اس طرح ایک اچھے گاہک کو ہاتھ سے جاتادیکھ کر بھائی سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنے باپ تارہ ؔ کو اطلاع دی جس نے اس بچہ کی خو ب خبر لی(Jewish Encyclopedia زیر لفظ ABRAHAM)۔یہ پہلی تکلیف تھی جواس پاکباز ہستی نے توحید کے لئے اٹھائی مگر باوجود چھوٹی عمر اور کم سنی کے زمانہ کے یہ سزا جوشِ توحید کو سرد کرنے کی بجائے اُسے اور بھی بھڑکانے کا موجب ہوئی۔سزا نے فکر کا دروازہ کھولا اورفکر نے عرفان کی کھڑکیاں کھول دیں۔یہاں تک کہ بچپن کی