تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 423

ہونے کا بھی ثبوت ملتا رہا یعنی باوجود اس کے کہ لوگوں نے اس کے پیاروں کی شدید مخالفت کی پھر بھی وہ باربار لوگوں کی ہدایت کا سامان کرتا رہا۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر اللہ تعالیٰ نے اپنے عزیزؔاور رحیم ؔ ہونے کی صفات کا اس لئے ذکر کیا ہے کہ اس واقعہ نے ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے عزیز ہونے کو ظاہر کردیا اور باوجود اس کے کہ موسیٰ ؑ کی فرعون کے لائو لشکر کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں تھی پھر بھی موسیٰ ؑ غالب آیا اور فرعون تباہ ہوگیا اور دوسری طرف اس واقعہ نے خدا تعالیٰ کے رحیم ہونے کو بھی ثابت کردیا۔کیونکہ باوجود اس کے کہ موسیٰ ؑ کی اتنی شدید مخالفت ہوئی پھر بھی خدا تعالیٰ نے اپنے رسولوں کا سلسلہ منقطع نہ کیا۔بلکہ جب پھر اس کے بندے روحانی بھوک اور افلاس کا شکار ہوئے تو اُس نے اُن کی اصلاح کےلئے اپنے رسولوں کو کھڑا کردیا۔وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَۘ۰۰۷۰اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا اور ان کو ابرا ہیم ؑ کا واقعہ پڑھ کرسُنا۔جب کہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت تَعْبُدُوْنَ۰۰۷۱قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيْنَ۰۰۷۲ کرتے ہو؟انہوں نے کہا ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔اور اُن کے آگے بیٹھے رہتے ہیں۔اِس پر اُس (یعنی قَالَ هَلْ يَسْمَعُوْنَكُمْ۠ اِذْ تَدْعُوْنَۙ۰۰۷۳اَوْ يَنْفَعُوْنَكُمْ۠ اَوْ ابراہیم ؑ) نے کہا کہ کیا جب تم ان کو بلاتے ہوتو وہ تمہاری (اس )پکار کو سُنتے ہیں؟یا تمہیں کوئی نفع پہنچاتے یا يَضُرُّوْنَ۰۰۷۴قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ۰۰۷۵ ضرر دیتے ہیں ؟انہوں نے کہا۔ایسا تو نہیں لیکن ہم اپنے بڑوں کو ایسا ہی کرتے دیکھتے آئے ہیں۔حلّ لُغَات۔أَصْنَامٌ۔أَصْنَامٌ صَنَمٌ کی جمع ہے۔اور صَنَمٌ کے معنے ہیں صُوْرَۃٌ اَوْتِمْثَالُ اِنْسَانٍ اَوْحَیَوَانٍ یُتَّخَذُ لِلْعِبَادَۃِ۔انسان یا حیوان کا وہ مجسمہ جو عبادت کیلئے بنایا جاتا ہے۔اَوْکُلُّ مَاعُبِدَمِنْ دُوْنِ اللّٰہِ۔یا اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی عبادت کی جائے اس کو بھی صنم کہتے ہیں (اقرب) مفردات میں ہے۔بَلْ کُلُّ مَا یَشْغِلُ عَنِ اللّٰہِ تَعَالیٰ یُقَالُ لَہٗ صَنَمٌ۔ہر وہ بات جو اللہ تعالیٰ کی عباد ت کرنے اور اس کے احکام کی تعمیل میں روک بنے وہ صنم کہلاتاہے۔