تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 422

خدا تعالیٰ کے انبیاء پر ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔جب بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی آتا ہے اکثریت اس کا انکار کردیتی ہے اوربہت تھوڑے لوگ اس پر ایمان لانے کی سعادت حاصل کرتے ہیںحالانکہ چاہیے یہ تھا کہ اتنے بڑے نشانات کے بعد اکثریت ہمیشہ خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتی اور صرف شاذو نادر کے طور پر ہی چند ایسے لوگ رہ جاتے جو اس کی آواز پر لبیک نہ کہتے مگر یہ کتنے تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ اتنے بڑے نشانات بھی لوگوں کی آنکھیں کھولنے کا موجب نہیںبنتے اور وہ مخالفت اور انکار پر ہی کمر بستہ رہتے ہیں۔مگر اُن کے انکار کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ اِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ تیرا رب بڑاغالب اور باربار رحم کرنے والا ہے۔یعنی وہ اپنے نبیوں کو غالب کرکے اپنے عزیز ہونے کا ثبوت دیتاہے اور لوگوں کے استہزاء اور انکار کے باوجود دنیا میں نئی خرابیاں پیدا ہونے پر پھر اپنے رسول بھیج کر اپنے رحیم ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔عربی زبان کے قواعد کے مطابق رحیم کے وزن پر جو الفاظ آتے ہیں اُن کے معانی میں لمبائی اور تواتر پایا جاتا ہے۔پس صفت رحیم کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے اپنی اسی سنّت کا ذکر فرمایا ہے جو ہمیشہ سے چلی آرہی ہے کہ جب بھی دنیا میں خرابی پیدا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کے لئے اپنا کوئی مامور مبعوث فرما دیتا ہے جو پھر بھُولے بھٹکے بندوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کردیتا ہے چنانچہ دیکھ لو آج تک دنیا میں کوئی نبی بھی ایسا نہیں آیا جو اپنے دشمنوں پر غالب نہ آیا ہو۔اور کبھی ایسا نہیں ہو اکہ دنیا میں خرابی پیدا ہوئی ہو اور خدا تعالیٰ نے اُس کی اصلاح کا سامان نہ کیا ہو۔آدمؑ آیا تو لوگوںنے اُس کی مخالفت کی۔مگر آدم ؑ کی مخالفت کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ اب میں اپنا کوئی نبی نہیں بھیجوں گا بلکہ اُس نے نوح ؑکو لوگوں کی ہدایت کے لئے بھجوادیا۔نوح ؑ کی بھی لوگوں نے شدید مخالفت کی۔مگرا س مخالفت کو دیکھتے ہوئے جب پھر اُس کے بندے گمراہ ہوئے تو خدا تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو لوگوں کی ہدایت کےلئے کھڑا کردیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی شدید مخالفت ہوئی۔یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا مگراتنی مخالفت کے باوجود خدا تعالیٰ جو رحیم تھا اُس نے پھرموسیٰ ؑ کو لوگوں کی ہدایت کےلئے کھڑا کردیا اور پھر اُن کی اُمت میں سینکڑوں انبیاء مبعوث کئے جن میں سے بعض قتل بھی کئے گئے۔مگر لوگوں کی اتنی عداوت کے باوجود جب پھر تمام دنیا میں گمراہی پھیل گئی تو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرما دیا۔غرض اللہ تعالیٰ کے عزیز اور رحیم ہونے کا ہمیں ہر زمانہ میں ثبوت ملتا ہے۔ہر زمانہ میں خدا اور اس کا رسول غالب رہے۔جیسا کہ وہ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ(المجادلۃ : ۲۲) یعنی خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ غالب رہیںگے۔اور پھر ہر زمانہ میں اس کے رحیم