تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 421
اور انہیں حکم ملا کہ پانی کی جو دیواریں کھڑی ہیں ان میں اپنا سونٹا داخل کرو۔چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا۔اور تمام دیواروں میں چوڑے چوڑے سوراخ ہوگئے اور وہ سب کے سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئے بلکہ ایک دوسرے کی باتیں بھی سننے لگے اور ہنسی خوشی سمندر میں سے گزرگئے۔(کشّاف زیر آیات وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ) مفسرین نے یہ قصہ اپنی عجوبہ پسند طبیعت کی تسکین کے لئے تو بیان کردیا مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سونٹا کس قدر لمبا تھا کہ وہ بارہ راستے جن پر سے یہود نے گزرنا تھا ان کی دیواروں میں اس سونٹے نے اپنے ایک ہی وار سے سوراخ کردیئے۔اور پھر انہوں نے اس سوال پر بھی کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ جن بنی اسرائیل میں باہم اِس قدر محبت پائی جاتی تھی کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر سمندر میںسے گزرنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے وہ ایک ہی راستہ سے کیوں نہ گزرگئے۔اور اُن کے لئے الگ الگ راستے کیوں تجویز کئے گئے۔ایک طرف اُن کا ایسے پُر خطر وقت میں بھی جب کہ فرعون ان کے تعاقب میں تھا الگ الگ راستوں سے جانا اور دوسری طرف اُن میں اس قدر محبت کا پایا جانا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر ایک قدم بھی اٹھانا گوارہ نہ کریں بالکل متضاد بیانات ہیں جو اس قصہ کے بنانے والے کے افتراء کو ظاہر کررہے ہیں۔حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایسے وقت میں سمندر کے سامنے پہنچایا جبکہ جزر کا وقت تھا۔چنانچہ اِدھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سمندر پر سونٹا مار ا اُدھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت پانی گھٹنا شروع ہوگیا لیکن جب فرعون کا لشکر پہنچا تو اُس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے اس خشک ٹکڑے کا اکثر حصّہ طے کرچکے تھے۔فرعون نے اُن کو پار ہوتے دیکھ کر جلدی سے اپنی رتھیںسمندر میں ڈال دیں۔مگر سمندر کی ریت اُس کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی اُس کی رتھوں کے پہیئے ریت میں پھنسنے لگے۔جن کو نکالتے نکالتے اِس قدر دیر ہوگئی کہ مدّ کا وقت آگیا۔اور فرعون اپنے تمام لشکر کے ساتھ وہیں غرق ہوگیا۔فَانْفَلَقَ کا لفظ بھی اِسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ اِنْفَلَقَ کے معنے جُدا ہوجانے کے ہیںاور سمندر کے جدا ہونے کا یہی مفہوم ہے کہ وہ کنارہ سے ہٹ گیا تھا اور اُس کی وجہ سے جو خشکی نکل آئی تھی اس میں سے بنی اسرائیل گزرگئے۔اُس وقت بنی اسرائیل کے ایک طرف سمندر تھا اور دوسری طرف وہ چھوٹی چھوٹی جھیلیں تھیں جو سمندر کے کنارے واقعہ تھیں اور وہ درمیان میں سے گزرنے والوں کو ریت کے اونچے ٹیلے کی طرح اُٹھی ہوئی نظر آتی تھیں۔اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان معجزہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً۔وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّوْمِنِیْنَ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّ حِیْمُ۔اس واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طاقت اور اس کی عظمت کا ایک بہت بڑا نشان مخفی ہے مگر افسوس ہے کہ اتنے بڑے نشانات کو دیکھنے کے باوجود لوگوں کی آنکھیں بند رہتی ہیںاور وہ