تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 411
کے پہلے حصہ میں چلا۔اور سَرٰی کے معنے ہوتے ہیں رات کے پچھلے حصہ میں چلا۔اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب فرعون کافی ڈرگیا ہے۔اُس سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔اب خدا کا نام لے کر رات کے وقت اپنی قوم کو نکال کر لے جاؤ۔ہاں ہوشیار رہنا کیونکہ فرعون اور اس کے ساتھی تمہارا پیچھا کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فرعون نے سب شہروں میں ڈھنڈورچی بھیج دیئے اور یہ اعلان کرا دیا کہ بنی اسرائیل ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو ہمیں غصہ دلا رہی ہے حالانکہ ہم سب ایک بڑی جماعت ہیں جو ہرقسم کا سازو سامان بھی اپنے پاس رکھتے ہیں۔اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہم اکثریت میں ہوتے ہوئے اقلیت سے ڈر جائیں اور اُسے کچلنے کے لئے تیار نہ ہوجائیں۔یہی وہ عیب ہے جو ہر نبی کے زمانہ میں اُس کے دشمنوں میں دکھائی دیتا ہے کہ وہ اکثریت کے گھمنڈ میں بجائے دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کے یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو ہم تمہیں ڈنڈے سے سیدھا کریں گے۔مثل مشہورہے کہ کوئی بھیڑیا ندی کے کنارے پانی پی رہاتھا کہ ایک بکری کا بچہ آیا اور اُس نے بھی پانی پینا شروع کردیا۔بکری کا بچہ دیکھ کر بھیڑیے کے منہ میں پانی بھر آیا اور اُس نے چاہا کہ اُسے کھالے۔انسانوں اور حیوانوں کے حالات ایک سے نہیں ہوتے۔انسان دلیل دیتا ہے۔لیکن ایک حیوان دلیل نہیں دیتا۔مثال میں چونکہ دلیل دی گئی ہے اِس لئے یہاں بھیڑیے سے مراد وہ آدمی ہے جو بھیڑیے کے سے خصائل رکھتا ہو اور بکری کے بچہ سے مراد وہ آدمی ہے جو اس کے خصائل رکھتا ہو بہرحال بھیڑیے کویہ لالچ پیدا ہوا۔کہ کسی نہ کسی طرح بکری کے بچہ کو کھالے۔چنانچہ وہ بکری کے بچہ کو دیکھ کر کہنے لگا۔تجھے شرم نہیں آتی کہ تو میرا پانی گدلا کررہا ہے بکری کے بچہ نے کہا۔سرکار یہ کون سی بات ہے آپ نے سوچا نہیں کہ آپ اوپر ہیں اور میں نیچے ہوں۔آپ کا پیا ہوا پانی میری طرف آرہا ہے نہ کہ میرا پیا ہوا پانی آپ کی طرف جارہا ہے۔بھڑیے نے آگے بڑھ کر بکری کے بچہ کو تھپّڑ مارا اور اُسے ماردیا اورکہا نالائق آگے سے جواب دیتا ہے۔یہی حالت حق کے مخالفوں کی ہوتی ہے۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ سچائی کیا چیز ہے۔وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اکثریت ہماری طرف ہے اور ہم اکثر یت کے بل بوتے پر جو کچھ چاہیں کرسکتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان آئے اور ایک بڑے جلسہ میں نعرہ ہائے تکبیر میں انہوں نے کہا۔میں ایک نکتہ بیان کرتا ہوں۔مرزا صاحب اور میرے درمیان آسان طریقِ فیصلہ یہ ہے کہ مرزا صاحب میرے ساتھ کلکتہ تک ٹرین میں چلیں۔کلکتہ تک بیسیوں اسٹیشن ہیں۔ہم دیکھیں گے کہ راستہ میں انہیں پتھر پڑتے ہیں یا مجھے اورپھول مجھ پر برسائے جاتے ہیں یا ان پر۔کلکتہ تک جاتے ہوئے اس بات کا فیصلہ