تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 37
ایسی ہی ہوشیاری مکہ والوں نے دکھائی تھی۔کام والے لوگوں کو صبح و شام ہی فرصت مل سکتی تھی وہ صبح اور شام کی نمازیں ادا کرنےکے لئے اور قرآن کریم پڑھنےکے لئے دارِ ارقم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو جاتے تھے۔کفار کے بعض زیادہ عقلمند لوگ خیال کرتے تھے کہ ہم نے راز معلوم کر لیا ہے۔یہ قرآن کی تصنیف کے لئے جمع ہو تے ہیں۔عقلمند انسان کے لئے اس میں بھی ایک بڑا بھاری نشان ہے کیونکہ اس میں یہ اعتراف پایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کوئی ایک شخص نہیں بنا سکتا۔تبھی انہو ں نے اس کے بنانے میں مدد دینے والی ایک جماعت قرار دی جن میں سے اُن کے نزدیک بعض عقلی باتیں جمع کرتے تھے اور بعض پرانی کتب کی تعلیم جمع کرتے تھے۔اب میں اس اعتراض کے وہ جواب بیان کرتا ہوں جو اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں۔کفار کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اس کے دو پہلوئوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔(۱) اوّل یہ کہ جن غلاموں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ قرآن کریم کے بنانے میں مدد دیتے ہیں۔کیا وہ ایسا کر سکتے تھے ؟ (۲) دوسرے یہ کہ جس چیز کی نسبت کہا جاتا ہے کہ بعض غلاموں نے لکھوائی ہے کیا وہ انسانوں کی لکھوائی ہوئی ہو سکتی ہے ؟ پہلے سوال کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا ہے کہ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا۔یعنی یہ اعتراض نہایت ظالمانہ اور جھوٹا ہے۔اس جواب میں ظُلْمًا وَّ زُوْرًا کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کفار کا یہ دعویٰ کہ قرآن کریم کے بنانے میں بعض اور لوگ مدد دے رہے ہیں خود اپنے آپ کو باطل ثابت کر رہا ہے کیونکہ جس مذہب کے لوگوں کی طرف بھی سکھا نےوالوں کو منسوب کیا جائے اُسی مذہب کی قرآن کریم تردید کر رہا ہے۔اگر وہ یہ کہیں کہ سکھانےوالے عیسائی غلام تھے تو قرآن تو وہ کتاب ہے جو عیسائیت کی دھجیاں بکھیر رہی ہے۔پھر یہ کس طرح مانا جا سکتا ہے کہ جس مذہب کے ماننے والوں نے آپ ؐ کو قرآن بنا کر دیا وہ خود اپنے مذہب کے خلاف آپ ؐ کو باتیں بتاتے رہے تھے۔اسی طرح اگر کہو کہ یہودیوں نے آپ کو سکھا دیا تو یہودی مذہب کی تردید بھی قرآن کریم میں مکمل طور پر موجود ہے۔غرض جس مذہب کی طرف بھی سکھانے والوں کو منسوب کیا جائے اُسی مذہب کی تردید قرآن کریم میں پائی جاتی ہے پس یہ دعویٰ خود اپنی ذات میں اپنے جھوٹا ہونے کا ایک کھلا اور نمایاں ثبوت ہے اس کو باطل ثابت کرنےکے لئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔حضرت مسیح ؑنے بھی انجیل میں اس دلیل کو استعمال کیا ہے چنانچہ جب یہودیوں نے آپ پر اعتراض کرتے