تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 405
رکھتے ہیں۔کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے جو گذشتہ اور موجودہ اور آئندہ آنے والے زمانوں کے تمام حالات کو خوب جانتا ہے لیکن اگر دشمن کے قول کے مطابق قرآن کریم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہی کلام قرار دیاجائے تب بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کا ادبی کمال انتہا کو پہنچا ہواتھا اور آپ کے معلومات کی وسعت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیںتھا کیونکہ قرآن کریم کہتاہے کہ جب فرعون نے مصر کے جادوگروں کوموسیٰ ؑ کے مقابلہ کےلئے بلایا تو اُس وقت انہوں نے کرتب دکھاتے وقت یہ الفاظ کہے کہ بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغَا لِبُوْنَ۔فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب آئیں گے۔اور یہ فقرات ایسے ہیں جو عربوں کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں آسکتے تھے۔کیونکہ عرب میں کوئی مداری نہیں تھے جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فقرہ سن کر سمجھ لیتے کہ مداری کرتب دکھاتے وقت ہمیشہ اس قسم کے الفاظ کہا کرتے ہیں۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہواہے انہیں سوچنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے تھے جہاں مداریوں اور ہتھکنڈے کرنے والوں کا نام ونشان تک نہ تھا۔پھر یہ فقرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے بتایا۔میں نے عرب کی تاریخ کا بڑا گہرامطالعہ کیا ہے۔اس کی تاریخ سے یہی پتا چلتا ہے کہ عرب لوگ شعروشاعری کے بڑے دلدادہ تھے اور گلہ بانی کرنا ان کا پیشہ تھا لیکن مداریوں اور ہتھکنڈے کرنے والوں کا ان کی تاریخ میں کہیں ذکر نہیں آتا۔وہ مصر اور ہندوستان وغیرہ میں پائے جاتے تھے مگر ان ممالک میںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گئے ہی نہیں۔پھر آپ کو یہ کس طرح معلوم ہوگیا کہ مداری جب کھیل دکھاتے ہیں تو وہ یہ فقرہ کہتے ہیں۔میں نے خود بعض مداریوں کو دیکھا ہے کہ جب وہ کھیل شروع کرتے ہیں تو دیکھنے والوں کو مخاطب کرکے کہتے ہیںکہ آپ کے اقبال سے ایسا ہوجائے گا۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے مداریوں نے کہا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ۔فرعون کے اقبال کی قسم۔لیکن عرب کی تاریخ میں کوئی محاورہ میں نے آج تک ایسا نہیں دیکھا۔جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ہم یہ کام فلاں کے اقبال سے شروع کرتے ہیں۔پس یہ فقرہ صاف بتاتا ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔لیکن اگر یہ فقرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نہیں بتایا بلکہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا تھا تب بھی یہ آپؐ کا اتنا بڑا کمال ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔کیونکہ یہ بعینہٖ اسی رنگ کا فقرہ ہے جو مداری اب بھی کہتے ہیں۔مگر یہ کتنی ہنسی کی بات ہے کہ ایک طرف تو وہ خدا تعالیٰ کے نبی پر غالب آنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم یقیناً غالب آ جائیں گے اور دوسری طرف جس کی خاطر تماشا دکھا رہے ہیں اُس کی تعریف کرتے چلے جاتے ہیں کہ آپ کے اقبال سے ایسا ہو جائے گا تاکہ کچھ زیادہ پیسے مل جائیں۔