تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 36

کسی سے لکھوالیا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔کفار کہتے ہیں کہ قرآن ایک جھوٹی کتاب ہے اور محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو اُس کے بنانے میں دوسرے لوگ امداد دیتے ہیں۔ان کفار نے یہ اعتراض کر کے سخت ظلم کیا ہے اور جھوٹ بولا ہے اور وہ اس اعتراض کو پکا کرنےکے لئے یوں دلیل دیتے ہیں کہ قرآن میں ہے کیا بس پُرانے لوگوں کی باتیں نقل کر دی گئی ہیں۔محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ باتیں دوسروں سے لکھوا لیتے ہیں اور وہ صبح و شام اُن کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔تاکہ اُن کو اچھی طرح یاد رہیں تو اُن سے کہہ کہ قرآن کو تو اس خدا نے اتارا ہے جو آسمان اور زمین کے رازوں کو جانتا ہے اور وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔اس آیت کے الفاظ سے مترشح ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ چونکہ صبح و شام نمازکے لئے اور قرآن سیکھنےکے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوتے تھے۔وہ نادان یہ خیال کرتے تھے کہ شاید اس جگہ جمع ہو کر بعض مسیحی غلام اپنی کتب کی باتیں ان کو بتاتے ہیں یا اُن سے لکھ کر صحابہ ؓ لے آتے ہیں اور پھر وہ صبح و شام حفظ کی جاتی ہیں۔ان جاہلوں کی عقل میں صبح شام کی نمازیں تو آہی نہیں سکتی تھیں وہ اس اجتماع کو منصوبہ بازی کا وقت سمجھتے تھے۔خود مجھے بھی اس بارہ میں ایک تجربہ ہوچکا ہے جس سے اس قسم کی بدگمانی کی حقیقت خوب معلوم ہو جاتی ہے۔کئی سال کی بات ہے میں ایک دفعہ لاہو ر گیا تو مجھ سے آریوں کے مشہور لیڈر لالہ رام بھجدت صاحب ملنےکے لئے آئے ان کے ساتھ کچھ اور صاحبان بھی تھے۔جن میں ’’ شیر پنجاب‘‘ جو سکھوں کا مشہور اخبار تھا اس کے ایڈیٹر صاحب بھی شامل تھے اتفاق سے اُسی دن میرا لیکچر تھا۔وہ لیکچر سننےکے لئے ٹھہر گئے۔مجھے سارا دن مختلف کا موں کی وجہ سے حوالے نکالنے کا موقعہ نہیں ملا تھا۔اس لئے میں نے حافظ روشن علی ؓ صاحب مرحوم کو سٹیج پر بٹھا لیا اور کہا کہ میں آپ کو مضمون بتا تا جائوںگا۔آپ مجھے آیت کے الفاظ بتاتے جایا کریں۔چنانچہ میں نے لیکچر شروع کیا اور جہاں کسی آیت سے استدلال کی ضرورت ہوتی۔میں آہستہ سے ایک دولفظ آیت کے پڑھ دیتا یا مضمون بتا دیتا اور وہ ساری آیت پڑھ دیتے میں اُسے پڑھ کر جو استدلال کرنا ہوتا تھا اُسے بیان کر دیتا۔دوسرے دن ’’ شیر پنجاب‘‘ میں ایک مضمون نکلا کہ کل ہم بھی امام جماعت احمدیہ کے لیکچر میں تھے۔لیکچر اچھا تھا مگر ہم نے ذرا تجسس کیا اور سٹیج کے پچھلی طرف گئے تو معلو م ہوا کہ انہوں نے اپنے پیچھے ایک عالم چھپایا ہوا تھا۔وہ مضمون بتاتا جاتا تھا اور مرزا صاحب اُسے دوہراتے جاتے تھے۔واقف کار لوگوں میں کئی دن اس پر خوب ہنسی اڑتی رہی اور سردار صاحب سے بھی کسی نے جاکر ذکر کر دیا۔وہ بہت شرمندہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میں تو سمجھتا تھا کہ میں نے اپنی ہوشیاری سے اصل راز معلوم کر لیا ہے۔