تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 363
ایک وہ زمانہ تھا جب بچے ہوئے ٹکڑے مجھے دیئے جاتے تھے اورآج میرایہ حال ہے کہ میں سینکڑوں خاندانوںکوپال رہاہوں۔آپ کی ابتداء کتنی چھوٹی تھی مگرآپ کی انتہا ایسی ہوئی کہ علاوہ ان لوگوں کے جو خدمت کرتے تھے لنگر میں روزانہ دواڑھائی سوآدمی کھاناکھاتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اپنے والد کی جائیداد میں اپنے بھائی کے برابر کے شریک تھے۔لیکن زمینداروں میں یہ عام دستور ہے کہ جو کام کرے وہ تو جائیداد میں شریک سمجھاجاتاہے اورجوکام نہیں کرتا وہ جائیداد میں شریک نہیں سمجھاجاتااوریہ دستورابھی تک چلا آتاہے۔لوگ عموماً کہہ دیتے ہیں کہ جو کام نہیں کرتا اس کاجائیداد میں کیا حصہ ہو سکتا ہے۔آپ کے پاس جب کوئی ملاقاتی آتااورآپ اپنی بھاوجہ کو کھانے کے لئے کہلا بھیجتے تووہ آگے سے کہہ دیتیں کہ وہ یونہی کھاپی رہاہے۔کام کاج توکوئی کرتانہیں۔اس پر آپ اپنا کھانااس مہمان کو کھلادیتے اورخود فاقہ کرلیتے یا چنے چباکر گذارہ کرلیتے۔خدا کی قدرت ہے کہ وہی بھاوجہ جو اس وقت آپ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں بعد میں میرے ہاتھ پر احمدیت میں داخل ہوئیں۔غر ض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی کام شروع کیا جاتا ہے تو اس کی ابتداء بڑی نظر نہیں آیاکرتی لیکن اس کی انتہاپر دنیا حیران ہوجاتی ہے۔فرعون نے بھی موسٰی کو ان کی ابتدائی کسمپرسی کا حوالہ دیا اورکہاکہ تم مجھےنصیحت کیاکرسکتے ہو۔تمہاری توخود ہمارے خاندان نے پرورش کی ہے۔حالانکہ دنیا میں کبھی کسی چیز کی ابتداء کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی انتہاپر نظر ڈالی جاتی ہے۔بڑ کے بیج کو دیکھ کر اگر کوئی شخص اسے بے حقیقت خیال کرتاہے تووہ نادان ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کروہ نادان ہے جو اپنی آنکھوں سے بڑ کے درخت کا اس قدر پھیلائو دیکھے کہ سینکڑوں آدمی اس کے سایہ تلے آرام کررہے ہوںاورپھر بھی وہ اس کے سایہ میں بیٹھنے سے انکار کردے محض اس لئے کہ اس کا بیج کسی زمانہ میں ایساحقیر تھا کہ ہواکاایک معمولی جھونکا بھی اسے پرے پھینک دیتاہے۔بہرحال فرعون نے ایسی ہی حماقت کی اورموسیٰ ؑ کو اس بات کاطعنہ دیاکہ تُو ہمارے گھروں میں پلتارہاہے۔وہ اس بات کو بھول گیاکہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت چلی آرہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں کو دشمنوں کے زیرسایہ ہی ترقی عطا کیاکرتاہے۔حضرت مسیح ناصریؑ نے روماکی حکومت کے سایہ تلے پرورش پائی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن میں ثقیف قوم میں پرورش پائی جس نے ابرہہ کو خانہ کعبہ گرانے کے لئے راہنمادیئے تھے(السیرة النبویة لابن ہشام امر الفیل وقصّة النسأة)۔گویا وہی قوم جس نے خانہ کعبہ کوگرانے کے لئے اپنی خدمات پیش کی تھیں اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کے زیر سایہ اس مقدس انسان کو جگہ دی جودعائے ابراہیمی کا مصداق اورخانہ کعبہ کا مقصودتھا۔اسی طرح خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو