تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 362

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی جب پیداہوئے توآپ کے ماں باپ نے آپ کی پیدائش پر خوشی کی ہوگی۔مگر جب آپ کی عمر بڑی ہوگئی اورآپ کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیداہوگئی توآپ کے والدآپ کی اس حالت کو دیکھ کرآہیں بھراکرتے تھے کہ ہمارایہ بیٹاکسی کام کے قابل نہیں۔مجھے ایک سکھ نے بتایاکہ ہم دوبھائی تھے ہمارے والد صاحب بڑے مرزا صاحب (یعنی مرزا غلام مرتضیٰ صاحب) کے پاس آیاکرتے تھے۔اورہم بھی بسا اوقات ان کے ساتھ آجایاکرتے تھے ایک دفعہ مرزا صاحب نے ہمارے والد صاحب سے کہا کہ تمہارے لڑکے غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام )کے پاس آتے جاتے ہیں تم ان سے کہوکہ اسےجا کرسمجھائیں۔ہم دونوں جب آپ کے پا س جانے کے لئے تیار ہوگئے تومرزا صاحب نے کہا کہ غلام احمد (علیہ السلام )کو باہر جاکرکہنا کہ تمہارے والد کو اس خیال سے بہت دکھ ہوتاہے کہ اس کاچھوٹالڑکا اپنے بڑے بھائی کی روٹیوں پر پلے گا۔اسے کہوکہ میری زندگی میں ہی کوئی کام کرلے۔میں کوشش کررہاہوں کہ اسے کوئی اچھی نوکری مل جائے میں مرگیا توپھر سارے ذرائع بند ہوجائیں گے۔اس سکھ نے بتایا کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب (علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کے پاس گئے اورکہا کہ آپ کے والد صاحب آپ کابہت خیال رکھتے ہیں۔انہیں یہ دیکھ کر کہ آپ کچھ کام نہیں کرتے بہت دکھ ہوتاہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مرگیا توغلام احمد کاکیا بنے گا۔آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مان لیتے۔آپ کے والد صاحب اس وقت کپو رتھلہ میں کوشش کررہے تھے اورکپور تھلہ کی ریاست نے آپ کو ریاست کاافسر تعلیم مقررکرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔وہ سکھ کہنے لگا کہ جب ہم نے یہ بات کہی کہ آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مان لیتے آپ کچھ کام کرلیں توآپ نے فرمایا والد صاحب تویونہی غم کرتے رہتے ہیں انہیں میر ے مستقبل کاکیوں فکر ہے میں نے توجس کی نوکری کرنی تھی کرلی ہے۔ہم واپس آگئے اور مرزا غلام مرتضیٰ صاحب سے آکر ساری بات کہہ دی۔مرزا صاحب نے فرمایاکہ اگر اس نے یہ بات کہی ہے توٹھیک کہا ہے وہ جھوٹ نہیں بولاکرتا۔یہ آپؑ کی ابتداء تھی اورپھرابھی توانتہانہیں ہوئی لیکن جوعارضی انتہانظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی وفات کے وقت ہزاروں ہزار آدمی آپ پر قربان ہونے والا موجود تھا۔آپ خو دفرماتے ہیں ؎ لُفَاظَاتُ المَوَائِدِ کَانَ اُکْلِیْ وَصِرْتُ الْیَوْمَ مِطْعَامَ الْاَھَالِیْ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۹۶)