تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 358
جَعَلَنِيْ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۰۰۲۲وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنْ رب نے مجھے حکم (یعنی عہدئہ نبوت)عطافرمایا اورمجھے رسولوں میں سے (ایک رسول )بنادیا۔اوریہ(بچپن میں عَبَّدْتَّ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَؕ۰۰۲۳ مجھے پالنے کی )نعمت جس کا تم احسان جتاتے ہو کیایہ اس بات کے مقابل میں پیش کی جاتی ہے کہ تم نے بنی اسرائیل کی ساری قوم کو غلام بنا چھوڑاہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔جب فرعون نے موسٰی اور ہارونؑ کا یہ پیغام سنا۔تونہایت ڈھٹائی سے کہنے لگا۔اے موسیٰ! وہ دن بھول گئے جب ہم تجھے پالا کرتے تھے۔اور جب کہ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہم میں گذارے۔اب تجھے بھی باتیں کرنی آگئی ہیں اور توجو ہمارے ٹکڑوں پر پلا ہے۔اب ہمیں ہی نصیحت کرنے کے لئے آگیا ہے۔یہ الفاظ اس نے موسٰی کی تحقیر کے لئے اسی طرح کہے جس طرح فقیہیوں اورفریسیوں نے جب مسیح ؑ کو کوچوں اور بازاروں میں تبلیغ کرتے اور خدائے واحد کا نام بلند کرتے دیکھا تو انہوںنے کہا: ’’ کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں۔اور اُس کی ماں کانام مریم اور اس کے بھائی یعقوب اور یوسف اور شمعون اور یہودہ نہیں۔اور کیا اس کی سب بہنیں ہمارے ہاں نہیں۔پھر یہ سب کچھ اس میں کہاں سے آیا۔اور انہوں نے اس کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔‘‘ (متی باب ۱۳آیت ۵۵تا۵۷) جس طرح فریسیوں کے لئے یہ بات حیرت کا موجب تھی کہ یہ شخص جو ایک بڑھئی کا بیٹا ہے اور جس کی تمام بہنیں ہمارے ہاں بیاہی ہوئی ہیں ہمیں وعظ اور نصیحت کرنے کے لئے آگیا ہے۔اسی طرح فرعون کے لئے بھی یہ بات حیرت کا موجب ہوئی کہ موسیٰ جسے اس کی ماں نے ہم سے ڈرتے ہوئے سمندر کی طوفانی موجوں میں پھینک دیا تھا اورجسے بچا کر ہم نے اپنے گھروں میں رکھا اور اس کی پرورش کی وہی ہمارے ٹکڑے کھانے کے بعد آج نعوذ باللہ ایسا طوطا چشم نکلا ہے کہ میری طاقت اور عظمت کا اس نے ذرا بھی پاس نہیں کیا اورا س نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ میں اس کی غلامی اختیار کروں۔فرعون اس وقت موسٰی کی ابتدائی حالت اور اپنے موجودہ عروج کو دیکھ رہاتھا۔مگر وہ اس بات کو بھول گیا کہ بعض دفعہ ایک چھوٹا سا بیج بویا جاتا ہے لیکن بعد میں وہ نشونما پاتے پاتے اتنا ترقی کر جاتا ہے کہ دنیا حیران ہوجاتی ہے۔اور بعض دفعہ ایک چیز ابتداء میں نہایت اہم نظر آتی ہے لیکن اس کا انجام اتنا چھوٹا ہوتا