تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 357

نرالاتھاچنانچہ باوجود اس کے کہ آپؐ کے پاس کوئی ایسے سامان نہیں تھے جن سے آپ اپنا پیغام دنیاکے تمام ممالک تک پہنچا سکتے۔پھر بھی خدا تعالیٰ نے آپ کو ابیض و اسود اوراحمر و اصفر سب میں قبولیت بخشی اورآپ کادین مختلف قوموں اورملکوں میں پھیلنا شروع ہوا۔یہاں تک کہ وہ دنیا کے کناروں تک پھیل گیا۔چنانچہ آج چین میں کروڑوں مسلمان ہیں۔انڈونیشیا میں نوے فیصدی مسلمان ہیں۔انڈین یونین میں پچیس تیس فیصدی مسلمان ہیں۔پھر افغانستا ن،ایران ،برما ،شام ،فلسطین ،ایبے سینیا ،وسطی افریقہ،شمالی و جنوبی افریقہ ،مغربی و مشرقی افریقہ ،امریکہ ، ایشیا اوریورپ کے بہت سے علاقوں میں لاکھوں کروڑوں مسلمان پائے جاتے ہیں۔غر ض محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ نمایا ں امتیاز حاصل ہے کہ آپ تمام دنیاکی طر ف مبعوث کئے گئے جبکہ موسیٰ ؑ صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث کئے گئے۔چونکہ بنی اسرائیل کی غلامی کااصل باعث فرعون کا پنجہء استبداد تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرعون او راس کی قوم کی طرف موسیٰ کو بھجوایا اوراسے توجہ دلائی کہ بنی اسرائیل کی مظلومیت کی پکار ہمارے عرش تک پہنچ چکی ہے اب تمہارے لئے سوائے اس کے اورکوئی راستہ نہیں کہ تم اپنے فولادی پنجہ کی گرفت کو ڈھیلا کردو اوربنی اسرائیل کو آزاد کردو ورنہ خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے تلواریں لے کراتریں گے اوروہ تمہیں اس جرم کی عبرتناک سزادیں گے۔قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّ لَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ اس (فرعون ) نے کہا (اے موسیٰ)کیاہم نے تجھ کو اس وقت نہیں پالا جبکہ توابھی بچہ تھا۔اورتونے ہم میں سِنِيْنَۙ۰۰۱۹وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِيْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ اپنی عمرکے بہت سے سال گذارے ہیں۔اورتونے وہ کام بھی کیاہے جو تو کرچکا ہے۔اورتُو(ہمارے احسانوں الْكٰفِرِيْنَ۰۰۲۰قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّيْنَؕ۰۰۲۱ کا)ناشکر گذار ہے۔(موسیٰ نے )کہا وہ کام(جس کا تونے اشارہ کیاہے)میں نے اس وقت کیاتھا جبکہ میں فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِيْ رَبِّيْ حُكْمًا وَّ اپنی قوم کی محبت میں سرشار تھا۔پس جب مجھے تم سے ڈر محسوس ہواتومیں تم سے بھاگ کر چلاگیا۔اس پرمیرے