تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 327
جب لوگ خدا تعالیٰ کو بھول چکے ہوتے ہیں۔اورجوشخص کسی چیز کو بھول چکاہو اس کو اس کی طر ف توجہ دلاناکوئی آسان کام نہیں ہوتا۔کیونکہ اس نے بھول کر کوئی اورراستہ اختیار کیاہواہوتاہے اوریہ آنے والا اس کے روز مرہ اورمعمول کے راستہ سے ہٹاکر اسے دوسری طرف لے جاناچاہتاہے۔اورجوشخص کسی چیز کاعادی ہوچکاہو اس سے ہٹانے والا دوست نہیں بلکہ دشمن سمجھاجاتاہے۔مثلاًہمارے ملک میں بعض عادتیں راسخ ہوچکی ہیں۔ہندوستان کی عورتیں پان کھاتی ہیں۔اب پان کازندگی کے کسی شعبہ سے تعلق نہیں۔پان کے ذریعہ علم حاصل نہیں ہوتا۔پان کے ذریعہ روپیہ حاصل نہیں ہوتا۔لیکن باوجود اس کے اگر کوئی کہے کہ پان چھوڑ دو تو وہ اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گی اوراصرار کریں گی کہ ہم پان کو نہیں چھو ڑسکتیں۔بلکہ پان توالگ رہاچھوٹی سے چھوٹی رسم کوبھی اگر چھڑانے کی کو شش کی جائے تو لوگ مخالفت کرتے ہیں۔مثلاًگائوں کی عورتیں اپنے سرکو گھی لگاتی ہیں شہر کی عورتیں سرمیں تیل لگاتی ہیں۔یورپ کی عورتیں تیل بھی پسند نہیں کرتیں وہ ایک قسم کالوشن استعمال کرتی ہیں۔اب سرکو گھی لگانا زندگی کاکوئی جزو نہیں۔اگرزندگی کاجزو ہوتاتو تیل سے کس طرح گذارہ ہوجاتا۔اگر تیل زندگی کاجزوہوتاتو خالی لوشن سے کس طرح گذارہ ہوجاتا۔دنیاکے ایک حصے کا تیل چھوڑ دینا اور دوسرے حصہ کا گھی چھوڑ دینااورتیسرے حصہ کا تیل اورگھی دونوںکو چھوڑدینا بتاتاہے کہ ان چیزوںکوانسان چھوڑ سکتاہے۔لیکن باوجود غیر ضروری چیزیں ہونے کے اگر تم گائوں کی عورتوں سے گھی چھڑواناچاہوتوتمہیں سالہاسال لگ جائیں گے۔وہ کہیں گی کہ اگر ہم گھی لگاناچھوڑ دیں توہمیں سردرد ہو جاتا ہے۔زکام ہو جاتا ہے اوروہ تمہاری مخالفت کریں گی اورسمجھیں گی کہ تم ان کے راستہ میں روک بن رہے ہو۔غرض چھوٹی سے چھوٹی عادت کاچھڑانابھی آسان کام نہیں ہوتا۔لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والا مصلح توساری دنیا کو پلٹ دینے کے لئے آتاہے۔وہ ان کے طورطریق سے انہیں باز رکھنے کی کوشش کرتاہے۔پھراس کی کس طرح مخالفت نہ ہو۔چنانچہ جب بھی کوئی مصلح آتاہے لوگ اس کی باتوں پر ہنسی اڑاتے ہیں۔مذاق کرتے ہیں۔اسے مارتے پیٹتے ہیں۔اس کے ساتھیوںکو مارتے پیٹتے ہیں۔اوریہ چیز برابراورمتواترچلتی چلی جاتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تومکہ والے اس وقت کئی کئی معبود مانتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہناشروع کیا کہ اللہ ایک ہے توقرآن کریم میں لکھا ہے کہ مکہ والوںکویہ عجیب بات معلوم ہوئی اورانہوں نے اس پر ہنسی اڑانی شروع کردی۔و ہ ایک دوسرے سے ملتے توکہتے۔بتائو لات خداہے یانہیں۔وہ کہتا۔کیوں نہیں۔پھروہ کہتا۔اچھا مناۃ خداہے یانہیں۔وہ کہتا۔یقیناً ہے۔پھر وہ کہتا۔اچھا عزّیٰ خداہے یانہیں۔وہ کہتا۔ضرور ہے۔اس پر وہ ایک عجیب انداز میں قہقہہ مار کر کہتاکہ تم نے سنا یہ شخص کیا کہتاہے۔اس نے اتنے خدائوں کوایک