تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 326
معنوں میں نیا پیغا م لائے کہ وہ ایک ہدایت جدیدہ لے کر آئے اورکثیر انبیاء ان معنوں میں نیا پیغام لائے کہ انہوں نے وہ پرانی شراب جس کا سرچشمہ الٰہی نور تھا نئے برتنوں میں لوگوں کے سامنے پیش کی۔مگر کبھی ایسانہیں ہواکہ خدا تعالیٰ کا کوئی پیغامبر آیا ہو اوردنیا نے اس کے پیغام سے اعراض نہ کیا ہو۔یااسے مختلف قسم کے مصائب اورآلام کا نشانہ نہ بنایاہو۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیاکو ایسے رنگ میں چلایاہے کہ عام طورپر یہ اس کے عام قواعد کے ماتحت کا م کرتی رہتی ہے۔اوربظاہر خدا کاہاتھ اس کے کاموں میں نظر نہیں آتا۔جب سے یہ کائنات پیداہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے زمین کوایک چکر دے دیاہے اوریہ زمین سورج کے گرد اورچاند زمین کے گرد چکر کھا رہاہے۔اورپھر ساری کائنات شمسی مل کر ایک غیر معلوم جہت کی طر ف چلی جارہی ہے۔بظاہر دیکھنے والایہ خیال کرتاہے کہ یہ اتفاقی حادثہ ہے اوراس دنیا کوپیداکرنے والااورچلانے والاکوئی نہیں۔کیونکہ ایک قانون ہے جوچل رہاہے۔مثلاً ایک ایساشخص جس نے گھڑی نہیں دیکھی اگر وہ ایسے گھر میں آجائے۔جہاں کوئی آدمی موجود نہ ہو اور ہفتہ بھر کی کنجی سے چلنے والی گھڑی چل رہی ہو تو وہ گھڑی کو دیکھ کر یہی سمجھے گاکہ یہ آپ ہی آپ چل رہی ہے۔اسے چلانے والا کوئی نہیں۔جب تک وہ وقت نہ آجا ئے کہ جب گھڑی کو کنجی دی جاتی ہے یاجب تک وہ وقت نہ آجائے کہ جب وہ گھڑی کھڑی ہوجائے۔درمیانی عرصہ سے وہ یہ اندازہ نہیں لگاسکتا کہ کسی اَورنے اس کو کنجی دی ہے۔اوروہ چل رہی ہے۔اسی طرح دنیا کوچلانے والے نے لاکھوں کروڑوں سال پہلے اس کو کنجی د ے دی۔اوریہ چل رہی ہے۔جس طرح گھڑی کو دیکھ کرانسان یہ سمجھتاہے کہ وہ آپ ہی آپ چل رہی ہے سوائے اس کے کہ وہ واقف ہو۔اسی طرح دنیا کو دیکھ کر ایک ناواقف انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ آپ ہی چل رہی ہے۔لیکن اس قانون کے علاوہ کبھی کبھی خدا تعالیٰ اپنی خدائی ثابت کرنے کے لئے بعض خاص باتیں بھی ظاہر کیا کرتاہے جن سے پتہ لگ جاتاہے کہ اس دنیا کاایک خالق اورمالک ہے۔جیسے گھڑی چل رہی ہوتو ایک ناواقف آدمی تویہ سمجھے گا کہ یہ آپ ہی چل رہی ہے کسی اَورکا اس پرتصر ف نہیں۔لیکن مالک آتاہے۔اسے چابی دیتاہے اورپھر اسے رکھ دیتاہے۔تواس کو دیکھ کر وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ گھڑی کسی اَورکے ذریعہ چل رہی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کبھی کبھی اپنی خاص صفات کے ذریعہ اپنے وجود کو ظاہر کرتاہے۔اوراس کی صفات کا یہ ظہور اس کے رسولوں اورمصلحین کے ذریعہ ہوتاہے۔لیکن یہ صاف بات ہے کہ جب خدااس دنیا میں دخل دے گا۔تواس کی کوئی وجہ ہوگی اوروہ وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ سے دور چلے جاتے ہیں۔وہ اس کو بھلابیٹھتے ہیں۔اوراس کے احکام پر ہنسی اڑاتے ہیں اس وقت خدا تعالیٰ ان کو یاددلانے کے لئے اپناکوئی ماموراور مرسل بھیجتاہے۔جب وہ مامو را ورمرسل دنیا میں آتاہے تووہ زمانہ وہی ہوتاہے۔