تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 300
جس میں قرآن کریم نے ان کتابوں سے زیادہ جامعیت اورتفصیل کے ساتھ اپنی تعلیم پیش نہ کی ہو اورجس میں اس نے اپنے مبین ہونے کے مقام کو ظاہرنہ کیاہو۔مثال کے طور پر میں اس وقت امن عالم کامسئلہ لے لیتاہوں۔امن ایک ایسی چیز ہے جس کے لئے دنیا ہمیشہ سے کوشش کرتی چلی آئی ہے چنانچہ یا تودنیا بیرونی امن کے لئے جدوجہد کرتی ہے اوریاجب بیرونی امن کے لئے جدوجہد نہیں کررہی ہوتی یا اس میں کامیاب ہوچکی ہوتی ہے تواندرونی امن کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔چنانچہ بڑے بڑے دولتمند اورعالم و فاضل جب آپس میں ملتے ہیں توان کی گفتگو کا موضوع اکثر یہی ہوتاہے کہ اَورتوہمیں سب کچھ میسر ہے مگر دل کاامن نصیب نہیں۔پس امن صرف بیرونی ہی نہیں ہوتا بلکہ دل کابھی ہوتاہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دل کا امن نصیب نہ ہو اس وقت تک ظاہر ی امن بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل دنیا کے تمام لو گ امن کے خواہشمند ہیں۔لیکن امن ان کو میسر نہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں اتنی مختلف الانواع مخلوق ہے کہ جب تک کسی ایک قاعدہ کے ماتحت امن کا حصول نہ ہو۔اس وقت تک سب لو گ مطمئن نہیں ہوسکتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں انسانوں میں ہزاروں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ایک دوسرے کے مفاد مختلف ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کے جذبات مختلف ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کی خواہشات مختلف ہوتی ہیں اورایک دوسرے کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ان متضاد خواہشو ں اورمتضاد ضرورتوں کے ہوتے ہوئے دنیا میں امن کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔اسلام بتاتاہے کہ ایسے متضاد اورمخالف خیالات کی موجود گی میں تبھی امن قائم ہو سکتا ہے جب ساری دنیا ایک ایسی ہستی کی تابع ہو۔جو امن دینے کاارادہ رکھتی ہو۔اگریہ بات نہ ہوتو کبھی امن میسر نہیں آسکتا۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ایک گھر میں ماں باپ ذراادھر ادھر ہوتے ہیں تو تھوڑی ہی دیر میں بچے لہولہان ہوجاتے ہیں۔کسی کے گلے پر زخم ہوتاہے کسی کے بال نوچے ہوئے ہوتے ہیں کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔کسی کی آنکھ سوجی ہوئی ہوتی ہے۔مگرجب ماں باپ آتے ہیں توا ن کے سامنے ایسی نرم شکلیں بناکر بیٹھ جاتے ہیں کہ گویا وہ لڑائی جھگڑے کوجانتے ہی نہیں۔اس لئے کہ ماں باپ کی نیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے امن سے رہیں۔پس درحقیقت امن اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے۔جب دنیا پر ایک ایسی بالا ہستی ہو جوامن کی متمنی ہو اور جودوسروںکوامن دیناچاہتی ہو۔اورایسے قوانین نافذکرناچاہتی ہو جوامن دینے والے ہوں۔اور وہی شخص حقیقی امن دینے والاقرار پاسکتاہے جواس ہستی کی طرف لوگوں کوبلائے۔یہ امن دینے والی ہستی کی طرف توجہ دلانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اورآپ ہی وہ انسان ہیں جن کے ذریعہ دنیا کو یہ معلوم ہواکہ خدا تعالیٰ کے ناموں