تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 299

وجود کامل اتصال نہیں رکھتا و ہ خبیر بھی نہیں ہوسکتا۔غرض قرآن کریم اس لحاظ سے بھی مبین ہے کہ اس نے صرف دعویٰ کرنے پرہی اکتفانہیں کیا بلکہ وہ جوکچھ کہتاہے اس کے دلائل بھی دیتاہے۔تاکہ بنی نوع انسان ان احکام پر عمل صرف ایک چٹّی اوربوجھ سمجھ کرنہ کریں بلکہ اس بشاشت اوریقین کے ساتھ کریں کہ انہیں جوکچھ کہاگیاہے ان کے اپنے فائدہ اورترقی کے لئے کہاگیاہے۔پھرقرآ ن کریم اس لحاظ سے بھی مبین ہے کہ وہ تمام امور جو احکام یااخلاق یااعتقادات وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں ان سب کو اس کتا ب میں پوری تفصیل کے ساتھ بیان کردیاگیاہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قرب اوراس کی محبت کے حصول کے لئے جس قدر امور کی ضرورت ہے ان سب کواس کتاب میں واضح کردیاگیاہے۔گویا قرآ ن کریم ایک جامع کتاب ہے جس میں توحید ،نبوت، دعا،قضاوقدر،بعث بعد الموت اورمعا دوغیرہ کے متعلق پوری تفصیل موجود ہے جبکہ دوسری کتب نے ان امورضروریہ سے قریباً خاموشی اختیارکررکھی ہے اوراگر ان میں کچھ ہے تو اس قدر ناکافی ہے کہ گویاکچھ نہیں کہا۔اسی طرح نبی اوراس کے فرائض اورنبوت اوراس کی حقیقت کے متعلق بائیبل اوروید اورــژند وغیرہ کتب بالکل خامو ش ہیں۔قرآن کریم نے وجودِ باری تعالیٰ کے ثبوت اوراس کی صفات پر بھی بحث کی ہے۔انسان کی روحانی طاقتوں پر بھی بحث کی ہے۔ان روحانی امور کوبھی بیان کیا ہے جوانسان کی روحانی طاقتوں کی تکمیل اورامداد کے لئے ضروری ہیں۔اسی طرح اس نے انسانی زندگی کے قال پر بھی روشنی ڈالی ہے اوراس کے ثبوت پیش کئے ہیں اورپھر اس نے ان تمام امو رمیں نہ صرف علمی طورپر ایک نئی روشنی بخشی ہے بلکہ عملاً بھی اس نے ایسے انسان پیداکئے ہیں جنہوں نے قرآن کریم پر عمل کرکے اللہ تعالیٰ کاوصال حاصل کرلیا اوران کی روحانی طاقتیں اپنی تکمیل کو پہنچ گئیں۔غرض قرآن کریم تمام سابق کتبِ الٰہیہ پر اپنے مبین ہونے کے لحاظ سے ایسی نمایاں فوقیت رکھتاہے کہ جس پہلو سے بھی دیکھیں قرآنی حسن انسانی آنکھوں کو خیرہ کئے بغیر نہیں رہتا۔پھرقرآن کریم کو دوسری الہا می کتب پر صرف انہی امور میں فضیلت حاصل نہیں جواس میں دوسری کتابوں سے زائد پائے جاتے ہیں یاجن میں اس نے دوسرے مذاہب کی خامیوںاوران کی کوتاہیوں کی اصلاح کی ہے بلکہ جن احکام میں اس کی پہلی کتب سے مشابہت دکھائی دیتی ہے ان میں بھی قرآن کریم نے ان سے بہتر اورجامع تعلیم دنیا کےسامنے پیش کی ہے مثلاً اگر ان کتابوں میں کھاناکھانے کاکوئی طریق بیان کیا گیاہے تواس کابھی قرآن کریم نے ان سے اچھا طریق پیش کیاہے اوراگر ان میں کپڑا پہننے کاکوئی طریق بتایا گیاہے۔توقرآن کریم نے ان سے بھی بہتر اوراعلیٰ طریق کپڑے پہننے کادنیا کے سامنے پیش کیاہے۔غرض کوئی معمولی سے معمولی بات بھی ایسی نہیں