تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 298
پھر قرآن کریم اس لحاظ سے بھی کتاب مبین ہے کہ وہ اپنے دعاوی کے ثبوت کے لئے بیرونی دلائل کا محتاج نہیں بلکہ وہ خود ہی اپنے دعاوی کے دلائل بھی مہیا کرتاہے برخلاف دوسری الہامی کتابوں کے کہ وہ دعویٰ تو کرتی ہیں مگران کے دلائل نہیں دیتیں۔چنانچہ تورات کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھ جائو۔انجیل کو پڑھ جائو۔ویدکو پڑھ جائو۔بس یہ معلوم ہوگاکہ فرض کرلیاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب دنیا مانتی ہے اوراس کی ذات میں شک کی گنجائش نہیں۔اس کی صفات کے متعلق اس قدر قلیل روشنی ڈالی گئی ہے کہ انسانی نفس اس سے قطعاً تسلی نہیں پاسکتا۔زیادہ سے زیادہ اگر کچھ بیان ہواہے تومعجزات پر انحصار کرلیا گیاہے اوراس طرح اس اصل الاصول کو جس پر مذہب کی بنیا د ہے بالکل مہمل چھوڑ دیاگیاہے۔ا س کے مقابل پرقرآن کریم کودیکھو۔وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے وجود کو پیش کرتاہے بلکہ اس کا ثبوت بھی دیتاہے اورنہ صرف اس کاثبوت دیتاہے۔بلکہ اس کی سب صفات کاثبوت دیتاہے اوراس طرح وہ ایک نیا اصل دنیا کے سامنے پیش کرتاہے جویہ ہے کہ جس قدر صفات الٰہیہ بندہ کے تعلق رکھنے والی ہیں ان کا الگ ثبو ت بھی ضروری ہے۔ورنہ خداتعالی کاوجود تو ثابت ہو گا۔مگر اس کی صفات کاوجود ثابت نہیں ہوگا۔اس بارہ میں مثال کے طورپر یہ آیت لے لو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔(الانعام : ۱۰۴)یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ انسانی نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں ہا ں وہ خود اس کی نظروں تک پہنچتا اوراپنی طاقت اورقوت کے اظہار سے اوراپنی صفات کے جلوہ سے اپنا وجود اس پرظاہر کرتاہے اوروہ بڑالطیف اورخبیر ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ اس کانظر نہ آنا اس کے وجود کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کی صفات میں سے ہے کہ وہ نظر نہیں آتا۔لیکن وہ خود اپنے نشانات کے ذریعہ سے اپنے آپ کوظاہر کرتاہے اوربندوں کی نگہداشت رکھتاہے اوران کی تمام جسمانی اور روحانی ضرورتوںکو پوراکرتاہے اوریہ اس امر کا ثبوت ہوتا ہے کہ و ہ ہے لیکن لطیف۔گویااللہ تعالیٰ کی بعض صفات جوڑے کی حیثیت رکھتی ہیں اوروہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس کے وجو دکو ظاہرکرتی ہیں۔مثلاً خبرداررہنا اورادنیٰ سے ادنیٰ تغیرکو بھی غائب نہ ہونے دینا۔یہ کام ایک لطیف ہستی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یعنی ایسی ہستی کے بغیر جو موجودات کے ہرذرہ سے ایک کامل اتصال رکھتی ہو۔پس خبیر کی صفت لطیف کے لئے بمنزلہ جوڑے کے ہے کہ اس کے ذریعہ سے اس کابھی ظہور ہوتاہے یاان دونوں کاآپس میں روح اور جسم کا تعلق ہے کہ ایک نہ ہوتودوسری صفت بھی ثابت نہیں ہوتی اوردوسری نہ ہوتو پہلی صفت بھی ثابت نہیں۔اگر خبیر کی صفت وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ سے ثابت نہ ہوتی تو لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ بھی ثابت نہ ہوتا بلکہ عدم ثابت ہوتا۔اس کے مقابلہ میں اگر لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ ثابت نہ ہوتا یعنی اس کالطیف ہونا توخبیر کی صفت بھی نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ جو