تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 292
اللہ تعالیٰ کی وہ نافرمانی ہے جو آدم اورحوّانے کی اور جس کی بنا پر وہ فطرتی طورپر گناہگارپیداہوا۔اسی طرح بعض دوسرے مذاہب نے یہ کہناشروع کردیا کہ انسان اپنی تمام کوششوں کے باوجود کبھی پاک نہیں ہوسکتا۔اوراس کی روح کو بار بار مختلف قسم کی جُونوں کے چکر میں ڈالاجا تاہے۔اول الذکر نظریہ ہمیں عیسائیت کی طرف سے(رومیوں باب ۵ آیت ۱۲) اورثانی الذکر ہندومذہب کی طر ف سے پیش کیا گیا (انوار حقیقت مترجم ستیارتھ پرکاش باب ۹ صفحہ ۲۴۷۔۲۴۸)۔اوردونوں نے انسانی فطرت کو گندہ اورناپاک قرار دیا۔اوراس کااتنا پروپیگنڈاکیا گیاکہ وہ انسان جو اس لئے پیدا کیا گیا تھاکہ اسے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل ہو اوراپنے اندر اعلیٰ اخلاق اور روحانیت پیداکرکے اللہ تعالیٰ کے کلام اوراس کے الہام کا مورد ہو اس کادل مایوسی کا شکار ہوگیا اوراس نے سمجھا کہ جب میرے لئے ترقی کے تمام راستے بند ہیں اورجب مجھے فطری طورپرگندہ اورناپاک ٹھہرایاگیاہے توپاکیزگی اورتقدس کاتصورمیرے لئے ناممکن ہے۔کیونکہ انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جو بات متواتر اس کے کان میں ڈالی جائے آہستہ آہستہ وہ اس پر اثر کرناشروع کردیتی ہے۔اگرکسی کو متواتر کہا جائے کہ تم بہت ہی بیوقوف اورجاہل ہو تووہ رفتہ رفتہ اپنی عقل کو کھو بیٹھتاہے۔اگرکسی کو کہا جائے کہ وہ چو ر کابیٹاہے توآہستہ آہستہ یہ خیال اس کے دل پر ایساراسخ ہوجائےگا کہ جب کبھی اس کے دل میں لالچ پیدا ہوگااور کسی کامال ہتھیانے کاارادہ کرے گا تووہ اپنے ارادہ کو روک نہیں سکے گا بلکہ کہے گاکہ دنیا توپہلے ہی مجھے چورکابیٹا کہہ رہی ہے اوریہی جذبات نسلاً میرے اندر پائے جاتے ہیں۔اب میںان کاموںسے کس طرح رک سکتاہوں۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے امورکوسختی سے ناپسند فرمایااورانہیں قومی ہلاکت اوربربادی کا اصل باعث قراردیاہے۔کیونکہ انسانی ذہنیت اس قسم کی ہے کہ جب اس پر کوئی اثر ڈالا جائے اوراس کے خیالات کسی خاص طرف مائل کئے جائیں توآہستہ آہستہ وہ ان اثرات کو قبول کرلیتا ہے۔سائیکالوجی یاعلم النفس کی ابتداء درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن کریم کے ذریعہ ہی ہوئی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اِذَاقَالَ الرَّجُلُ ھَلَکَ النَّاسُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ(مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب باب النھی عن قول ھَلَکَ النَّاسُ)یعنی جب کوئی شخص یہ کہتا پھرتاہے کہ قوم برباد ہوگئی قوم برباد ہوگئی تودرحقیقت اس کی بربادی کا موجب وہی بنتاہے۔کیونکہ جب متواترکسی قوم کے کان میں یہ ڈالاجائے گا کہ وہ ہلاک ہوچکی ہے تولوگوں میں قوت مقاومت باقی نہیں رہےگی۔اوراس کاتنزل شروع ہوجائے گا۔عیسائیت نے دنیا کو یہ تعلیم دی کہ آدمؑ نے گناہ کیا جو ورثہ میں اس کی اولاد کو بھی ملا۔اب دنیا اگر گناہ سے بچنابھی چاہے تونہیں بچ سکتی۔اس عقیدے کے ہوتے ہوئے ایک عیسائی کے لئے یہ کتنا مشکل ہے کہ وہ گناہ کا خیال