تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 285
نازل کرنے والاخداانسان کی تمام ضروریات کو جانتااوراس کی فطرت کے مخفی اسرار تک سے آگاہ ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ اس میں مبین کالفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی استعمال ہواہے( الزخرف:۳۰ والدخان:۱۴)۔نور کے متعلق بھی استعما ل ہواہے (النساء:۱۷۵)۔فضل کے متعلق بھی استعمال ہواہے (النمل:۱۷)۔حق کے متعلق بھی استعمال ہواہے (النور:۲۶)۔اسی طرح اور کئی چیز وں کے متعلق بھی استعمال ہواہے۔مگرکسی الہامی صحیفہ کے متعلق سوائے قرآن کریم کے مبین کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے متعلق صرف ایک د فعہ یہ مضمون بیان ہواہے مگر وہاں مستبین کالفظ استعمال کیاگیاہے نہ کہ مبین کا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاٰتَیْنَھُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ( اَلصّٰفّٰت :۱۱۸)ہم نے موسیٰ ؑ اورہارونؑ دونوں کو ایک کامل کتاب دی جس میں تمام احکام بیان کئے گئے تھے۔اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ قرآن کریم دونوں مضمونوں میں فرق کرتاہے۔قرآن کریم میں یہ لفظ اس کی نسبت بارہ دفعہ استعمال ہواہے۔دس دفعہ کتا ب کے ساتھ اوردودفعہ قرآن کے لفظ کے ساتھ۔پس ایک جگہ مستبین اوردوسری جگہ مبین کالفظ استعمال کرنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ایک جگہ وضاحت اوردوسری جگہ وضاحت اور ایضاح کی طرف اشارہ کرنامقصودہے۔کیونکہ اِستبان کے معنے واضح ہو جانے کے ہیں اوراَبَانَ کے معنے واضح ہونے کے بھی ہیں اورواضح کردینے کے بھی ہیں۔پس قرآن کریم کے متعلق مبین کالفظ استعمال فرماکر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ قرآن کریم کودوسری کتب پر یہ ایک زائد فضیلت حاصل ہے۔کہ وہ نہ صرف خو د اپنے مطالب کے لحاظ سے واضح ہے اورایسی صداقتیں بیان کرتاہے جوایک ثابت شدہ حقیقت ہوتی ہیں بلکہ وہ موضح بھی ہے یعنی وہ دوسری الہامی کتب کی صداقتوں کو بھی واضح کرتاہے۔اوریہ ایک ایسی فضیلت قرآن کریم کو حاصل ہے جس میں اس کے ساتھ اورکوئی کتاب شریک نہیں باقی جس قدر الہامی کتب ہیں ان کا صرف اس قد رکام تھا کہ وہ اپنے مطالب کو واضح کردیتیں اوراپنے مدعاکوظاہر کردیتیں۔کیونکہ وہ صرف ایک ایک قوم کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی تھیںان کواس سے کوئی تعلق نہیں تھا کہ باقی کتب جھو ٹی ثابت ہوتی ہیں یا سچی۔باقی انبیاء جھوٹے ثابت ہوتے ہیں یا سچے۔باقی قومیں خدا تعالیٰ کے نور کی وارث ثابت ہوتی ہیں یامحروم ثابت ہوتی ہیں۔وہ صرف اپنے ذکر کولے لیتی تھیں یااپنے حلقہ اوردائرہ تک محدود رہتی تھیں لیکن قرآن کریم چونکہ سب اقوام کو ایک نقطہ مرکزی پر جمع کرنے کے لئے آیا ہے وہ نہ صرف بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والے تمام احکام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتاہے اوران کے ہر گوشہ کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ وہ پہلی کتابو ںکی حقیقت کو بھی ظاہرکرتاہے اورپہلے نبیوں پر عائد شدہ الزاموںکو دور کرتاہے اورپہلی