تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 284
جواب دیاکہ ہنوز دلی دور است۔ابھی تو وہ دوچار سومیل کے فاصلہ پر ہے۔ابھی کسی فکرکی کیاضرورت ہے۔جب وہ آٹھ دس منزل کے فاصلہ پر پہنچ گیا تووہ پھر آئے اورانہوں نے کہا کہ اب تو و ہ بہت قریب آگیا ہے۔آپ نے فرمایا۔ہنوز دلی دور است۔جب و ہ اورزیادہ قریب آگیا اوردوتین منزل تک پہنچ گیا توپھر آ پ کے مرید سخت گھبراہٹ کی حالت میں آپ کے پاس پہنچے مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دو ر است۔آخر ایک دن پتہ لگا کہ بادشاہ کی فوجیں فصیل کے باہر ٹھہر گئی ہیں۔ان کے مرید یہ خبر سن کر پھر آپ کے پاس آئے اورکہا۔حضور اب تو وہ دلی کی فصیلوں تک آپہنچا ہے۔آپ نے فرمایا۔ہنوز دلی دور است۔ابھی تو وہ فصیل کے باہر ہے۔اندرتوداخل نہیں ہواکہ ہمیں گھبراہٹ ہو۔اسی رات ولی عہد نے فتح کی خوشی میں ایک بہت بڑی دعوت کی اورشاہانہ جشن منایا ہزاروں لو گ اس دعوت اوررقص و سرود کی محفل میں شریک ہوئے۔ولی عہد نے اس دعو ت کا انتظام ایک بہت بڑے محل کی چھت پر کیا تھا۔چونکہ چھت پر بہت زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے تھے اس لئے اچانک چھت نیچے آگری۔اورباد شاہ اوراس کے رفقاء سب د ب کر ہلا ک ہوگئے۔صبح جب بادشاہ کی موت کی خبر آئی۔توانہوں نے کہا۔کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ ہنوز دلی دور است(مشاہیر اسلام ‘‘شائع کردہ ادارہ صو فی صفحہ ۱۵،۱۶ و تذکرۃ الاولیا ء حصہ دوم مصنفہ رئیس احمد جعفری صفحہ ۳۴۲)۔غرض ہمار اخدا بڑی بزر گ شان رکھنے والا ہے اورجو بھی اس کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے و ہ اپنی اپنی روحانیت اور درجہ کے مطابق بزرگی حاصل کرلیتا ہے۔اورجس طرح خدا تعالیٰ کی شان اورعظمت پر حملہ کرنے والاسزاپاتا ہے اسی طرح و ہ لو گ جو خدا تعالیٰ کے مقربین پر حملہ کرتے ہیں وہ بھی اپنے کئے کی سزاپائے بغیر نہیں رہتے۔دنیا میں ہزارہا انبیاء گذرے ہیں جن میں سے اکثر کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں۔ان کے جسم ہزاروں من مٹی کے نیچے مدفون ہیں اوران کی اپنی قائم کردہ جماعتیں بھی دنیا میں موجود نہیں۔مگرچونکہ وہ ایک خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے کھڑے ہوئے تھے اس لئے خدا نے انہیں ایسی بزرگی عطا فرمائی کہ آج بھی اگران کی کوئی ہتک کرتاہے تو خدا آسمان سے ان کی مدد کے لئے دوڑاچلا آتا ہے اوران کی عزت او ر شہرت پر لگایا جا نے والاہرداغ مٹاکر رکھ دیتا ہے۔غرض طٰسٓمٓ میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات لطیف ،سمیع اورمجید کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اوربتایا گیا ہے کہ اس سورۃ میں خدا تعالیٰ کے عالم اسرار ہونے اس کے محسن عظیم ہونے اوراس کے سمیع الدُّعاہونے اوراس کے صاحب عظمت و جبروت ہونے پر روشنی ڈالی گئی ہے اوران صفات کو واقعات کے رنگ میں ثابت کیاگیا ہے۔چنانچہ اس کے ثبوت میں پہلی بات ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ یہ آیات ایک ایسی کتاب کی ہیں جو ہرایک حقیقت کو خو ب کھول کر بیان کرنے والی ہے اوریہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کتاب کو