تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 283
فرمایا میں نے تمیں جواب دےدیا ہے۔جائو اوراپنے گورنرسے یہ بات کہہ دو۔چنانچہ انہوں نے واپس جاکر گورنرسے یہی بات کہہ دی۔گورنر یمن نے یہ بات سنی تو وہ کہنے لگا کہ یاتویہ شخص پاگل ہے اوریا پھر خدا کاسچا نبی ہے۔ہم چند دن انتظارکرتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ اس کی یہ بات سچی ثابت ہوتی ہے یانہیں۔چنانچہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد یمن کی بندر گاہ پر ایک جہاز لنگر انداز ہوا۔اوراس میں سے ایک سفیر اُترا۔جو گورنر یمن کے نام ایک سربمہر لفافہ لایا۔گورنر یمن نے لفافہ دیکھا تو اس پر ایک نئے بادشا ہ کی مہر تھی۔اس نے وہ مہر دیکھتے ہی اپنے درباریوںسے کہا کہ عرب کے نبی کی بات سچ معلوم ہوتی ہے۔پھر اس نے خط کھولا تو وہ کسریٰ کے بیٹے شیرویہ کا تھا اوراس کا مضمون یہ تھا کہ ہماراباپ سخت ظالم تھا اوراس نے تمام ملک میں تباہی مچا رکھی تھی میں نے اسے فلاں رات قتل کردیا ہے اوراب میں اس کی جگہ تخت حکومت پر بیٹھا ہوں۔تمہارافرض ہے کہ تم اپنی مملکت کے تمام لوگوں سے میری اطاعت کا اقرار لو اورمجھے یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس نے جوسفاکیاں کی تھیںان میں سے ایک یہ بھی سفاکی تھی کہ اس نے عرب کے ایک مدعی نبوت کے متعلق لکھا تھا کہ اسے گرفتار کرکے میرے پا س بھجوادیاجائے۔ہم اس حکم کو بھی منسوخ کرتے ہیں۔(طبری ذکر خروج رسل رسول اللہ الی الملوک )۔اب دیکھو کسریٰ نے چاہاکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتارکرکے آپ کو سزادے اوراس طرح دنیا میں آپ کو ذلیل کرے مگرمجید خدا نے آپ کی بزرگی اورعظمت کو اوربھی دوبالا کردیا اورکسریٰ کو اس کے اپنے بیٹے کے ہاتھو ں قتل کروادیا۔اسی طرح حضرت نظام الدین صاحب اولیاءؒجودِلّی کے ایک بہت بڑے بزرگ گذرے ہیں۔ان کے زمانہ کا بھی ایک بادشاہ غیاث الدین تغلق ان کامخالف ہوگیا۔وہ اس وقت بنگال کی طرف کسی جنگ پر جارہاتھا۔اس نے کہا کہ جب میں واپس آئوں گا تو انہیں سزادوں گا۔ان کے مریدوں نے یہ بات سنی توبڑے گھبرائے اورانہوں نے شاہ صاحب سے آکر کہا کہ حضورجو لوگ شاہی دربار میں رسوخ رکھتے ہیں اگر ان کی ذریعہ بادشاہ کے پاس سفارش ہوجائے تو بہتر ہوگا۔آپ نے فرمایا۔ہنوز دِلّی دوراست۔ابھی تواس نے لڑائی کے لئے جانا ہے اورپھر دشمن سے جنگ کرنی ہے ابھی سے کسی فکر کی کیا ضرورت ہے۔اس وقت تووہ دلی میں موجود ہے اورلڑائی کے لئے گیا بھی نہیں۔پھر آٹھ دس دن اَورگذرگئے۔تومرید پھر گھبرائے ہوئے آپ کے پاس آئے۔اورکہا۔حضور اب تو آٹھ دس دن گذر چکے ہیں اوربادشاہ لڑائی کے لئے جاچکا ہے۔اب توکو ئی علاج سوچنا چاہیے۔مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دوراست۔آخر جس جنگ پر وہ گیا تھا اس کے متعلق خبر آگئی کہ اس میںبادشاہ کو فتح حاصل ہوگئی ہے اور وہ واپس آرہاہے۔مرید پھر گھبرائے ہوئے آپ کے پاس پہنچے اوربادشاہ کی واپسی کی خبر دی۔مگر آپ نے پھر یہی