تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 268
میں ایمان لائے کہ وہ جانتے تھے کہ مجھے مسلمان ہوکراب اپنی جان قربان کرنی پڑے گی (السیرة النبویة لابن ہشام جزء اول اسلام عمرؓ)۔اسی طرح حضرت عثمانؓ ایک خاموش طبع انسان تھے مگر ان کی قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عزت بخشی کہ صلح حدیبیہ کے وقت تمام صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ یارسول اللہ!اگر ہم میں سے کو ئی شخص مکہ میں جانے کے قابل ہے تووہ عثمانؓ ہی ہیں۔چنانچہ حضرت عثمانؓ مکہ گئے اور چونکہ ان کی رشتہ داری مکہ میں بہت زیادہ تھی۔رؤساء نے ان سے کہا کہ آپ کعبہ کا طواف کرلیں مگر حضرت عثمانؓ نے انکار کردیا۔اورکہا کہ جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہیں کریں گے میں بھی نہیں کروں گا۔حضرت عثمانؓ کو مکہ والوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیر ہوگئی اوراندھیراہونے لگا۔تومسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کردیاگیاہے۔اسی لئے وہ ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی۔تو آپؐ نے تمام صحابہؓ کو جمع کیا اوران سب سے بیعت لی وہ ایک ہی بیعت تھی جو آپ نے موت کے نام پر لی۔اس بیعت کے موقعہ پر آپؐ نے صحابہ سے یہ اقرار لیا کہ ہم دشمن کے مقابلہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے ہم سب کے سب مارے جائیں۔جب سب صحابہؓ بیعت کرچکے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا۔اس وقت عثمانؓ یہاں نہیں ہے۔اورممکن ہے وہ ماراگیاہو۔لیکن چونکہ اس کے زندہ ہونے کابھی امکان ہے اس لئے (آپ نے اپنادوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھتے ہوئے فرمایا)میں عثمانؓ کی جگہ اپنا ہاتھ بیعت کے لئے رکھتا ہوں۔(تاریخ الخمیس بیعۃ الرضوان و السیرۃ النبویۃ لابن ہشام امر الحدیبیۃ۔۔۔۔و ذکر بیعۃ الرضوان) اب دیکھو عثمانؓ کے لئے یہ کتنا بڑا اعزاز تھا۔اس کے مقابلہ میں اگران کی ہزار سالہ زندگی بھی قربان ہوجاتی تو ہیچ تھی۔لیکن اگر حضر ت عثمانؓ کو پتہ ہوتا کہ مجھے یہ اعزاز ملنے والا ہے اور میرے لئے فلاں فلاں انعامات مقدر ہیں اوروہ محض ان انعامات کا لالچ کرتے ہوئے ایمان لے آتے تو ان کے ایمان کی کیا حقیقت رہ جاتی۔اسی طرح حضرت علیؓ جب ایمان لائے تووہ ابھی بچے ہی تھے اوروہ بھی یہ سمجھ کرایمان لائے تھے کہ مجھے اسلام کے لئے ہرقسم کے مصائب برداشت کرنے پڑیں گے یہاں تک کہ اگر جان قربان کرنے کا وقت آیا تو مجھے اپنی جان بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرنی پڑے گی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت کے ابتدائی ایام میں ایک دعوت کی جس میں بنو عبدالمطلب کو بلایا۔تاکہ ان تک پیغام حق پہنچایاجائے۔چنانچہ آپؐ کے بہت سے رشتہ دار اس دعوت میں شریک ہوئے۔جب سب لو گ کھاناکھاچکے تو آپؐ نے کھڑے