تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 259
ہے تووہ اپنے پیشہ میں جس قد رچیز یں استعمال کرتا ہے سب خدا تعالیٰ ہی کی عطا ہوتی ہیں۔لوہے کو خدا نے پہلے پیدا کیا ہواہے۔کوئلہ اس نے پہلے سے پیدا کررکھا ہے۔آگ جس پر وہ لو ہے کو گر م کرتاہے خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے۔اعصاب جن سے وہ کام لیتا ہے خدا تعالیٰ کے عطاکردہ ہیں۔غرض جتنی چیز وں سے وہ کام لیتا ہے سب خدا کی پیدا کی ہوئی ہوتی ہیں۔اس کااپنا صرف اراد ہ ہی ہوتا ہے اَورکچھ نہیں ہوتا۔لیکن اتنے بڑے انعامات کے باوجود کبھی ایسابھی ہوتاہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔اوراس وقت و ہ ایسا ناشکر ا بن جاتا ہے کہ اسے کو ئی بھی نعمت دکھائی نہیں دیتی۔کوئی بھی فضل نظر نہیں آتا۔کسی رحمت سے بھی اس کے قلب میں اللہ تعالیٰ کی محبت کاجذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ہم نے بڑے بڑے مالداروں کو دیکھا ہے۔وہ موٹروں میں پھرتے ہیں۔دس دس کھانے ان کے دسترخوانوں پر موجو د ہوتے ہیں۔مگر جب کھانے کے لئے بیٹھتے ہیں توکہتے ہیں۔یہ بھی خراب ہے وہ بھی خراب ہے کھانے کاکو ئی مزہ ہی نہیں آتا۔اس کے مقابلہ میں غریب آدمی کو دیکھو کہ و ہ روٹی کا سوکھا ٹکڑا کس مزے سے کھاتا ہے اورکس طرح وہی سوکھاٹکڑا اسے دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ معلوم ہوتاہے۔مجھے یا د ہے۔میری دوتین سال کی عمر تھی کہ میری آنکھیں دُکھنے آگئیں۔ڈاکٹروں نے ایسی حالت میں مجھے روٹی کھلانی منع کردی۔ایک دن صبح کے وقت مجھے آنکھوں میں سخت تکلیف محسوس ہوئی کیونکہ صبح کے وقت رات بھر آنکھ بند رہنے کی وجہ سے پانی اندربھر جاتا ہے اورآنکھوں میں درد ہوتاہے۔اوراس کی وجہ سے لازمی طور پر بچہ رونے لگ جاتا ہے۔بہرحال آنکھیں دُکھنے کی وجہ سے مجھے تکلیف ہوئی اورمیں نے روناشروع کردیا۔ہمارے گھر کی ایک خادمہ نے یہ دیکھ کر مجھے اُٹھالیا اورپچکارنا شروع کردیا۔اس وقت وہ روٹی کاایک باسی ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے ہوئے بڑے مزے سے کھاتی جاتی تھی۔اورساتھ ساتھ مجھے پچکارتی جاتی تھی۔مجھے ساری عمر میں کبھی کسی کھانے کا اتنا مزہ نہیں آیا جتنا مجھے اس باسی ٹکڑہ کی خوشبوکا محسوس ہوا۔کیونکہ وہ اپنے دل کے اطمینا ن کی وجہ سے اس باسی ٹکڑہ میں بھی اتنا لطف محسوس کررہی تھی کہ اس نے وہ لطف اورو ہ لذت کااحساس میرے اند ر بھی پیداکردیا۔حالانکہ وہ بغیر کسی سالن کے اوربغیرکسی ایسی چیز کے کھارہی تھی جو اس ٹکڑے کو نرم کردے۔مگر جس مزے سے وہ کھارہی تھی اورجس طرح وہ مچاکے ماررہی تھی۔و ہ مچاکے محسوس کراتے تھے کہ اس کے نزدیک دنیا کاسب سے بڑاکھانا وہی ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ تین چار سال کے بعد ایک دفعہ اماں جانؓ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاراکس چیز کو دل چاہتا ہے تومیری طبیعت پر اس کااتنا اثر تھاکہ میں نے کہا۔میر اجی چاہتا ہے کہ میں باسی روٹی کھائوں۔توجب انسان قناعت سے کام لے اور شکر