تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 258
والا اوران کی تمام حاجات اورضروریات کاعلم رکھنے والا ہے۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر نظام عالم پر نگاہ دوڑائی جائے توہمیں یہ دونوں باتیں اپنے پورے کمال کے ساتھ دنیا میںدکھائی دیتی ہیں۔اوراس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ واقعہ میں ایک لطیف ہستی ہے جس نے اپنی مخلوق کو فائدہ پہنچانے اوراس کی زند گی کوبرقرار رکھنے کے لئے اِ س قسم کی نعمتوں سے اسے نوازاہے۔اوراس کی بقاء کے لئے اتنے بڑے سامان پیداکئے ہیں کہ کو ئی شخص اگر ساری عمر بھی ان نعمتوں کاشکر اداکرتارہے تب بھی وہ پور ی طرح شکر ادانہیں کرسکتا۔چنانچہ دیکھ لو اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ آسمان پر لاکھو ں میل دور سور ج اورچا نداورستارے اس کے بندوں کے لئے رات دن اپنے کام میں مشغو ل ہیں۔اورزمین الگ اپنے کام میں مصروف ہے۔انسان تھوڑا سابیج ڈال کر اپنے گھر چلاآتاہے مگر تھوڑے ہی عر صہ میں اس چند سیر بیج کے بد لے ہزاروں من غلہ وہ اپنے گھر لے جاتا ہے۔وہ اپنے گھر میں آرام سے سورہاہوتا ہے اورزمین اس کے کام میں مصروف ہوتی ہے اورا س کے لئے غلہ اُگارہی ہوتی ہے۔سبزی اُگارہی ہوتی ہے اورانواع و اقسام کے پھل اورپھو ل پیداکررہی ہوتی ہے۔یہ سویا ہوااُٹھ کر آتا ہے اوراپنی ضرورت کے مطابق اُگااُگایا اورپکا پکایا پھل لے کر چلا جاتا ہے۔اسی طرح انسانی جسم پر نگاہ ڈالو۔کا ن ایک چھوٹی سی چیز ہے مگر یہ بھی خدا کی عطا ہے۔ہواکی لہریں جن کے ذریعہ سے ان میں آواز پہنچتی ہے وہ بھی خدا کی پیداکی ہوئی ہیں۔گلے کے پردے جن سے آوا ز نکلتی ہے وہ بھی خداکے پیداکئے ہو ئے ہیں۔ایک اچھا گویّا انہی پردوں کے ذریعہ سے گاتاہے جو خدا نے دیئے ہیں مگر لو گ کہتے ہیں فلاں گویّا کتنا اچھا ہے۔یا لو گ کہتے ہیں فلاں شخص کا حافظہ کتنا تیز ہے۔مگر اس کے حافظہ والی جگہ یعنی دماغ بھی خدا نے بنایاہے۔دماغ کے اند رجو سیلز ہوتے ہیں و ہ بھی خدا نے بنائے ہیں۔اسی طرح انسان نما ز پڑھتا ہے توزبان جس سے وہ الفاظ اداکر تا ہے خدا تعالیٰ کی پیداکردہ ہوتی ہے۔جس مقام پر وہ ان الفاظ کو محفوظ رکھتا ہے یعنی دماغ وہ بھی خدا نے بنایا ہے۔وہ رکوع کرتاہے یا سجدہ کرتا ہے یاقیام کرتاہے توا س کے لئے وہ جتنی قوتوں سے کام لیتا ہے وہ سب کی سب خدا تعالیٰ کی پیداکردہ ہوتی ہیں۔انسان کا ان کی پیدائش میں کوئی ہاتھ نہیں ہوتا۔اسی طرح اگر وہ زکوٰۃ دیتاہے توزکوۃ کاروپیہ خدا تعالیٰ کادیا ہواہوتا ہے۔جن طاقتوں سے اس نے روپیہ کمایا تھا وہ بھی خداتعالی کی دی ہوئی تھیں۔جس ہاتھ سے ا س نے زکوٰۃ دی و ہ بھی خدا کادیاہواتھا۔پھر انسان روزہ رکھتا ہے تواس میں بھی اس کاکیا ہے اگر خدا نے اس کے اند راتنی طاقت نہ رکھی ہو تی کہ وہ دس بار ہ یا پندر ہ گھنٹے بھوکا رہ سکے تووہ کس طرح روزہ رکھ سکتا تھا۔پس اگر وہ روز ہ رکھتا ہے تووہ بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کے نتیجہ میں ہی رکھتا ہے۔اپنے زوراور بل پر نہیں رکھتا۔یامثلاً ایک لوہار اپنے پیشہ سے شہرت حاصل کرتا