تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 22
بندہ پر اس لئے نازل کی ہے تاکہ وہ گورے اور کالے اور مغربی اور مشرقی سب کو ہو شیار کر دے اور ہر زمانہ میں ہوشیار کرتا چلا جائے یہی دعویٰ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ(سبا :۲۹) یعنی اے ہمارے رسول ! ہم نے تجھے ساری دنیا کی طرف بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں کیونکہ پہلے ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور جو تعلیم وہ لاتا تھا صرف اپنی قوم کے لئے لاتا تھا۔چنانچہ ہندوستان میں اگر رام اور کرشن اوربُدھ حکومت کر رہے تھے تو ایران میں زرتشت حکومت کر رہے تھے۔چین میں کنفیوشس حکومت کر رہے تھے۔اسی طرح کوئی موسیٰ ؑ کی امت تھا تو کوئی عیسیٰ ؑ کی۔مگر خدا نے کہا اب دنیا میں ایک ہی مذہب کی حکومت ہوگی اور ظاہر ی اور باطنی طور پر تمام دنیا ایک ہی جھنڈے کے نیچے ہوگی۔گویا لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا فرما کر مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اسلام کے ظہور کی اصل غرض یہ ہے کہ دنیا کے سارے لوگوں کو خواہ وہ ہندو ہوں۔عیسائی ہوں ، یہودی ہوں ، پارسی ہوں ،مجوسی ہوں یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں بتایا جائے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایسا خدا ہے جو تمام دنیا کو اب ایک ہی کتاب اور ایک ہی رسول پر اکٹھا کرنا چاہتا ہے اور اس طرح مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اُن کا ایک ہی وقت میں ان سب مذاہب پر تبلیغی حملہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ برکتوں والا اُسی وقت ثابت ہو سکتا ہے۔جبکہ مسلمان بھی اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ وہ برکتوں والا ہے اور اس کی خوبیوں اور کمالات کو تمام دنیا میں روشن کر دیں۔آخر دین کے کاموںکے لئے اللہ تعالیٰ خود تو آسمان سے نہیں اُترتا اُس کے بندے ہی کام کیا کرتے ہیں۔پس لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا تب ہی صحیح ثابت ہو سکتا ہے جب کہ تمام دنیا کو اس کا پیغام پہنچ جائے۔اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے بہت دُور جا چکے ہیں پھر اس کے اطاعت گذار بندے بن جائیں۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ نے جب یہ کہا کہ قرآن کریم تمام دنیاکے لئے ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام قوموں کی طرف آئے ہیں تو انہوں نے اپنے عمل سے بھی اس بات کو سچا ثابت کر کے دکھا دیا اور ساری دنیا میں اسلام پھیلا دیا لیکن اب ہر قوم کو اور ہر جماعت کو اور ہر زبان بولنے والے کو اور ہر ملک کے رہنے والے کو تبلیغ نہیں پہنچے گی تو اس کی ذمہ داری ہماری جماعت پر ہوگی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اسی غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ ہم اسلام کو تمام دنیا پر غالب کریں اور اللہ تعالیٰ کا نام دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیں۔پس لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا میں جہاں قرآن کریم کی افضلیت کا ذکر کیا گیا ہے وہاں اس میں مسلمانوں کو تبلیغِ اسلام کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے جس پر ان کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا کی دوسری ضمیر قرآن کریم کی طرف پھرتی ہے اور اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے