تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 249
پھر اسلام نے صرف صفات الٰہیہ کا ایک جامع نقشہ پیش کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ا س نے بنی نوع انسان کو یہ بھی بتایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرناچاہتے ہو تواس کا طریق یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے یعنی اس کی صفات کی نقل کرنے کی کوشش کرو۔وہ فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ(الاعراف :۱۲)یعنی ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں صورت بخشی اورپھر ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم ؑکی اطاعت کرو۔اِ س پر فرشتوں نے تو آدم ؑکی اطاعت کی مگر ابلیس نے نہ کی۔اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کی دوپیدائشیں ہیں۔ایک بشری اورایک روحانی۔بشری پیدائش کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ہم نے تم کو پیدا کیا۔یعنی تمہیں ایک ذی حیات وجود بنایا اور پیدائش روحانی کے متعلق فرمایا۔ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ پھر ہم نے تمہاری ایک روحانی شکل بنائی جس کے ذریعہ تم دوسری مخلوق سے ممتاز طور پر پہچانے جاتے ہو۔اسی کی طرف بائیبل میں بھی ان الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے کہ ’’ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔‘‘ (پیدائش باب ۱آیت ۲۷) لیکن بائیبل نے جوالفاظ استعمال کئےہیں ان سے خدا تعالیٰ کے جسمانی ہونے کادھوکا لگتاہے۔لیکن قرآن کریم نے جوالفاظ استعمال کئے ہیں ان سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں صورت سے روحانی شکل مراد ہے جسمانی نہیں۔کیونکہ جسمانی پیدائش کا اس سے پہلے ذکر کیاجاچکا ہے۔پس صَوَّرنٰکم کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے تمہارے اندر صفات الٰہیہ کاحامل بننے کی قابلیت پیداکی یعنی پہلے توہم نے انسان کی جسمانی خلق کی۔اس کے ناک ،کان ، ہاتھ اورپائوں وغیرہ بنائے اورپھر ہم نے اس کے دماغ کی ایسی تربیت کی اور اس کی قوتوں کا اس طرح ارتقاء شروع کیا کہ وہ صفات الٰہیہ کو اپنے اندر جذب کرنے کے قابل ہوگیا اوراس کے اندر ان کے اظہار کی اہلیّت پیداہوگئی۔اس کے بعد ہم نے ملائکہ سے کہا کہ اب تم اس انسان کو سجدہ کرو۔چونکہ قرآن کریم میں اس بات پر بڑازور دیاگیا ہے کہ سجدہ خدا تعالیٰ کے سوااور کسی کے لئے جائز نہیں اس لئے اس سجدہ سے مجازی سجدہ ہی مراد ہے۔اوراس کے معنی اطاعت اورفرمانبردار ی کے ہیں۔مگر مجازی سجدہ بھی تو مجازی خداکے سامنے ہی ہوسکتا ہے۔اسی لئے فرمایاکہ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَکہ پہلے توہم نے تمہار ے اندر خدائی صفات پیداکیں اورجب تم خدائی صفات کو جذب کرنے اوران کا اظہار کرنے کے قابل ہوگئے توپھر ہم نے ملائکہ سے کہا کہ سجدئہ حقیقی توبہرحال میرے سواکسی اَورکے سامنے ناجائز ہے لیکن ہم تم کو ایک مجازی سجدہ کاحکم دینے لگے ہیںاوراس مجازی سجدہ کے لئے ایک مجازی خدا کی ضرورت تھی۔سووہ مجازی خدا وہ انسان ہے جس کے اند رالٰہی صفات پائی جائیں۔